غیر قانونی طریقے سے پورپ جانے کی خواہش، راستے میں کئی دفعہ اپنے آپکو بیچنا پڑتا ہے
ایوب آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں مالی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ یہاں پر نا روزگار نا ہی کاروبار کا کوئی اور طریقہ ہے ، اس لئے نوجوان مجبوراً غیرقانونی قدم اٹھانے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں سے یورپ جانے کے خواہش مند شہری صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف بس اڈوں اور دیگر مقامات پر پہنچتے ہیں۔ جہاں سے ان کو ایران کی سرحد تک پہنچانے کا کام ہوتا ہے۔ عمومی طور پر یہ افراد کوئٹہ سے ایران پہنچائے جاتے ہیں جہاں سے آگے ترکی اور ترکی کے بعد یورپ پہنچانے کا غیرقانونی دھندا ہوتا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ اٹلی میں ہونے والے حالیہ حادثے کے باوجود ایجنٹوں کو غیرقانونی دھندا اپنی پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔ جبکہ حکام کو اس سنگین صورت حال کی طرف خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
پشاور کے شہری جو غیرقانونی طریقے سے ترکی تک بہت مشکلوں کے بعد پہنچے تھے انہوں نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم شروع میں پورپ میں مقیم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو ہشاش بشاش دیکھ کر دل میں خواہش آتی تھی کہ ہم بھی پورپ جائے لیکن قانونی طور پر پر ویزے ٹکٹ پر بہت خرچہ آتا ہے اس لئے مجبوراً اپنی خواہش کو پورا کرنے کیلئے غیرقانونی طور پر یورپ جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
لگتا ہے حکومت عمران خان کو ریاست کا اولین دشمن قرار دینا چاہتی ہے، زلمے خلیل زاد
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے، امریکا کی سالانہ رپورٹ
ایوب آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں مالی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ یہاں پر نا روزگار نا ہی کاروبار کا کوئی اور طریقہ ہے ، اس لئے نوجوان مجبوراً غیرقانونی قدم اٹھانے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نے ایجنٹ سے بات کی ، وہ ہم چار دوستوں کو 5 ہزار فی کس کے عویض کوئٹہ لے گئے، اس کے بعد ایک تنگ سی پیک اپ میں کپڑوں میں باندھ کر کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ایران بارڈر کراس کرایا۔
انہوں نے بتایا کہ وہاں پر ایک سگریٹ پینے کے دوران ایجنٹس بندوں کو منٹوں میں فروخت کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بندے کو بالکل پتہ نہیں لگتا کہ وہ کس دلدل میں پھنس گیا ہے۔
ایوب آفریدی نے بتایا کہ اتنی مشکلات راستے میں آئی کہ مجھے لگا کہ بس ہمیں واپس ہونا چاہیے یا یہاں پہ موت آجائے تو بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین دنوں تک ہم نے بغیر کچھ کھائے پیئے سفر کرتے رہے یہاں تک کہ بعض مقامات پر کچھ دوست بے ہوش بھی ہو گئے۔ بعض نے مجبوراً خوراک کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے گھاس کھالی۔
ایوب آفریدی نے دیگر پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش نہ کریں ، نوجوانوں سے گزارش ہے کہ ایجنٹوں کے جھوٹے وعدوں میں کبھی نہ آئیں۔ انہوں نے کہا پورپ جانے کی خواہش میں موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔









