ایبٹ آباد: سستا بازار میں قائم مفت آٹا تقسیم پوائنٹ پر خواتین پر پولیس کا تشدد

لیڈیز پولیس اہلکاروں کے لاٹھی چارج سے کئی روزے دار خواتین زخمی ہو گئیں ، خواتین کا آئی جی خیبرپختونخوا اور ڈی آئی جی ہزارہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

ایبٹ آباد کے سستے بازار میں "مفت آٹا تقسیم پوائنٹ” پر آٹے کے حصول کے لیے آنے والی خواتین آپس میں جھگڑ پڑیں ، جس کے بعد لیڈیز پولیس اہلکاروں نے انہیں ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد میں مفت آٹے کے تقسیم پوائنٹ پر لائن میں نہ لگنے پر خواتین میں اجھل پڑیں اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا ، حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے موقع پر موجود لیڈیز پولیس اہلکاروں نے روزےدار خواتین نے ڈنڈے برسا دیئے۔

یہ بھی پڑھیے

غیر قانونی طریقے سے پورپ جانے کی خواہش، راستے میں کئی دفعہ اپنے آپکو بیچنا پڑتا ہے

ضلعی انتظامیہ کی ناقص پالیسی، مفت اٹا کی تقسیم میں بھگدڑ مچنے سے شہری جاں بحق

آٹے کے حصول کے لیے آنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کی طرف اعلان کردہ مفت آٹے کے حصول کے لیے یہاں آتی ہیں آٹا لینے کے لیے سارا سارا دن لائنوں میں کھڑے پر مجبور ہیں ، لیکن آٹا نہیں ملتا مگر پولیس کی جانب سے ڈنڈے ضرور مارے جاتے ہیں۔

تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین نے آئی جی خیبرپختونخوا اور ڈی آئی جی ہزارہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خاص انتظام نہ ھونے سے بھگڈر بھی مچ گئی تھی جس سے خواتین زخمی بھی ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے خواتین روزے اور بارش میں سارا دن خوار ہوتی رہتی ہیں مگر آٹا نہیں ملتا ہے۔

متعلقہ تحاریر