ٹرک ڈرائیورز کا طورخم سرحد پر تعینات پاکستانی عملے پر رشوت ستانی کا الزام

پاکستان سے طورظم پہنچنے تک ہزاروں روپے طلب کیے جاتے ہیں، افغان حکام ایک روپیہ بھی نہیں لیتے، ڈرائیور کا پاکستانی اہلکاروں پر تشدد اور موبائل فون توڑنے کا الزام

پاکستان سے تجارتی سامان افغانستان لے جانے والے ٹرک ڈرائیورز نے طورخم سرحد پرتعینات پاکستانی حکام پر رشوت ستانی کا الزام عائد کردیا۔

ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان سے ہزاروں روپے رشوت لی جاتی ہے جبکہ افغان حکام ان سے ایک روپے بھی نہیں لیتے۔

یہ بھی پڑھیے

 برطانیہ سے کاروبار سمیٹ کر مردان آنے والے عالم زیب کا اسٹور رشوت نہ دینے پر سیل

خیبر پختونخوا میں انتخابات کا کیس: پشاور ہائی کورٹ نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی

سینئر صحافی طاہر خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پاکستانی سامان تجارت افغانستان لینے والے ٹرک ڈرائیورز کی ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں ٹرک ڈرائیور پشتو میں  اپنی آپ بیتی بیان کررہا ہے۔

ڈرائیور نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکام ان سے رشوت طلب کرتے ہیں اور انکار پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ڈرائیور نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی اہلکاروں کے تشدد سے اسکا ہاتھ زخمی ہوگیا جبکہ موبائل فون کی اسکرین بھی ٹوٹ گئی ہے۔

ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ خاصہ دار، کسٹمز اور دیگر حکومتی اہلکار ان سے بزور رشوت طلب کرتے ہیں اور انکار پر تشدد کا نشاہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سے طورخم پہنچنے تک رشوت کی مد میں ہزاروں روپے لیے جاتے ہیں  اور افغانستان میں ان سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا جاتا۔

متعلقہ تحاریر