علاج کے ساتھ مریضوں کو نوکریاں دینے والا پیراپلیجک سنٹر پشاور
پشاور: مریض سے 5 تولے سونے کے برابر پیسے لینا والا اسپتال اب مریضوں کو مفت علاج کے ساتھ ساتھ بعض اوقات نوکری بھی دیتا ہے
پشاور: مریض سے 5 تولے سونے کے برابر پیسے لینا والا اسپتال اب مریضوں کو مفت علاج کے ساتھ ساتھ بعض اوقات نوکری بھی دیتا ہے
پاکستان کا واحد اسپتال جہاں مریض ہی ایک دوسرے کیلئے امید کی کرن ہیں اور بعض اوقات مریض کو نوکری ہی مل جاتی ہے
پیراپلیجک سنٹر پشاور جہاں معذور افراد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کا بھی معاشرہ میں حصہ ہے. پیرافلیجک سنٹر پشاور میں معذور مریض ہی ایک دوسرے کے لئے امید کی کرن ہے. خواتین مریض صحتیاب ہوکر گھر جاتے ہیں تو ہنر سکھا کر ہی گھر جاتے ہیں بعض اوقات آئے ہوئے مریض کو نوکری بھی دی جاتی ہے.
یہ بھی پڑھیے
ملالہ کو 6 سال بعد وطن واپسی پر فوجی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی
صحافی اسد طور کے کار ایکسیڈنٹ کو قاتلانہ حملہ قرار دینے کی کوشش ناکام
صوبائی دارالحکومت پشاور کے پوش علاقے حیات آباد فیز 4 میں قائم کئی دہائیوں کا اسپتال, پشاور پیراپلیجک سنٹر جہاں معذور مریض ہی ایک دوسرے کے لئے سہارا بنتے ہیں.
پیراپلیجک سنٹر پشاور میں معذور لوگوں کے ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف کی علاج کے ساتھ ساتھ ان کا نفسیاتی علاج بھی ہوجاتا ہے اس اسپتال کی خاص بات یہ ہے اس کے اپنے ہی معذور مریض ایک دوسرے کے لئے سہارا اور امید کی کرن بن جاتے ہیں.
پیراپلیجک سنٹر پشاور، پاکستان کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ ہے جہاں سپائنل کارڈ انجری ، پوسٹ پولیو سروائورز اور سپاینہ بایفیڈہ سے متاثرہ لوگوں کو بیڈ سورز کے علاج اور جامع جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی بحالی کی تمام ترسہولتیں، تکنیکیس، جدید ترین مصنوعی سہارے بشمولِ ویل چیئر اور جسمانی معذوریوں کے ساتھ باعزت اور فعال زندگی جینے کے گُر سکھاۓ جاتے ہیں۔
یہاں سے ہر ہفتے درجنوں مریض مستفید ہو کر جب واپس اپنے گھروں اور شہروں میں جاکر معاشرے کا فعال حصہ بن کر، ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے سارے کام خود کرتے ہیں، اور کسی پہ بوجھ نہیں بنتے۔
پیراپلیجک سنٹر پشاور کے سنٹر سے جب کوئی مریض صحتیاب ہو کے جاتا ہے تو انکو گریجویٹ کہا جاتا ہے. نیوز 360 کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اس اسپتال کے گریجویٹ انجنیئر عرفان نے کہا کہ ہم اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں ہمارا خطرناک ایکسیڈنٹ ہوا تھا جو بعد میں مجھے اس اسپتال میں لایا گیا انہوں نے کہا کہ مجھے واقعی لگا تھا کہ اب میرا اس معاشرہ میں کوئی جگہ نہیں ہے اور معاشرے پر بوجھ بن کر جینا ہوگا لیکن پیراپلیجک سنٹر پشاور نے جس طرح ہمارا جسمانی, نفسیاتی علاج کیا, اور ہمیں ذندگی جینے کے گُر سکھائے تو واقعی مجھے اب لگتا ہے کہ میرا بھی اس معاشرہ میں کوئی حصہ ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ الحمداللہ اب میں مکمل اچھی ذندگی گزار رہا ہے اور نہ صرف پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سنٹر میں ملازمت کرتا ہوں بلکہ یہاں اسپتال آکر مریضوں کی رضاکارانہ کونسلینگ بھی کرتا ہوں.









