خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کارڈ پر مفت علاج معالجے کی سہولیات معطل کردی
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے 48 اسپتالوں میں صحت کارڈ سے میسر مفت علاج ومعالجے کی سہولیات 6 ماہ کے لیے ختم کردی ہیں ، ڈائریکٹر ہیلتھ کارڈ ریاض تنولی نے کہا کہ صرف 48 اسپتالوں میں یہ سہولت بند کی گئی ہے وہاں معیار اور کارگردگی بہتر نہیں تھی تاہم انہیں معاملات بہتر کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے

خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کارڈز پر مفت علاج معالجے کی سہولیات معطل کردیں ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں 48 اسپتالوں میں 6 ماہ کیلئے صحت کارڈ کی سروسز معطل کی گئیں ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کارڈز پرمفت علاج معالجے کی سہولیات 6 ماہ کیلئے معطل کردیں ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع کے48 اسپتالوں سے میسر مفت علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی بند ہوگئی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
خیبرپختونخوا حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط صحت کارڈ سے مشروط کردیئے
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے 48 اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ سےعلاج بند کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا مفت علاج کی سہولت 5 دسمبر سے بند ہوجائیں گی ۔
ڈائریکٹر ہیلتھ کارڈ ریاض تنولی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں200 اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاہم 47 اسپتال کی ناقص کارگردگی کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ۔
ریاض تنولی نے بتایا کہ صحت کارڈ کے تحت155 سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ ناقص معیار اور کارگردگی کی بنا پر وہاں سروسز کی فراہمی روکی گئی ہے ۔
ڈائریکٹر ہیلتھ کارڈ ریاض تنولی نے مزید بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع کے48 اسپتالوں کو معیار اور سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ان اسپتالوں میں 5 دسمبر سے علاج بند کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
صحت کارڈ پر علاج سے انکار، بیمار بیٹے کے باپ نے عدالت کا دوازہ کھٹکھٹا دیا
ذرائع نے کہا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسپتالوں میں صحت کی سہولیات کا فقدان تھا جس کیلئے آئندہ 6 ماہ کے لیے مفت علاج و معالجے کی سہولیات ختم کی گئی ہے ۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے فیصلے پر عوام میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ عوامی حلقوں نے کہا کہ مثالی حکومت کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف نے ایک ہی سہولت دی تھی جو آج چھین لی ہے ۔









