سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائیکورٹ بار نے پنجاب میں الیکشن کا التوا مسترد کردیا

الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین سے انحراف اور توہین عدالت کے مترادف قرار، وکلا تنظیموں کا معزز عدلیہ کے ساتھ  ملکر آئین کے فرمودات  اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کا عزم

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن  نے  پنجاب اسمبلی کے انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے  کےا قدام کو آئین سے انحراف اور توہین عدالت قرار دیتے ہوئے  اسکی شدید مذمت کی ہے۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن نے تمام آئینی اداروں سے آئین کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کل سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرائی جائے گی، اسد عمر

آئی ایم ایف نے اسحاق ڈار کی وزارت خزانہ کے ایک اور جھوٹ کا پول کھول دیا

سیکریٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مقتدر اختر شبیر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہاگیا ہے کہ  الیکشن کمیشن نے انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرکے آئین منسوخ کردیا، الیکشن کمیشن کسی بھی صورت میں انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح تھا کہ انتخابات 90 دنوں میں کرانے لازم ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی مینڈیٹ اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی، الیکشن کمیشن نے آئین وسپریم کورٹ کے فیصلےکی غلط تشریح کی، آئین کے تحت نگران حکومت بھی 90 دن سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتی۔

سیکریٹری سپریم کورٹ بار کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن کی آئین کی کھلی خلاف ورزی ملک میں انتشار  پھیلائےگی، تمام آئینی ادارے آئین منسوخ نہ کرنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔

دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بار کی کابینہ کاہنگامی اجلاس منعقد کرکےمتفقہ طور پر الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب میں انتخابات ملتوی کرنے کےفیصلے کو آئین اور انحراف اور توہین عدالت کے مترادف قرار دیا۔

سیکریٹری لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے جاری کردہ بیان میں  کہا گیا ہے وکلا برادری معزز عدلیہ کے ساتھ مل کر آئین کے فرمودات اور قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر برقرار رکھے گی۔

متعلقہ تحاریر