پنجاب کے کچے میں آپریشن کیلئے فوج کی مدد لینے کا فیصلہ
وزارت داخلہ کی سمری سرکولیشن کے ذریعے منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوا دی گئی۔
پنجاب کی نگراں حکومت نے پنجاب کے کچے کے علاقے میں جاری آپریشن میں پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پنجاب کی نگراں حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ کی جانب سے سمری سرکولیشن کے ذریعے منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق آج بلایا گیا وفاقی کابینہ اجلاس ملتوی کردیا تھا۔ پنجاب حکومت نے آپریشن میں فوج کی خدمات حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا عطاء اللہ تارڑ کو کرارا جواب، ٹیلی تھون فنڈز کی تقسیم کی ویڈیو جاری کردی
سینیٹر افنان اللہ کا قانونی ٹیم کی ناکامی اعتراف، نوازشریف دونوں تارڑوں سے ناراض
پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں ابتدائی طور پر 5 مئی تک پاک فوج کے جونوانوں کی خدمات مانگی گئی ہیں۔
بھیجی گئی سمری کے مطابق آپریشن کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خدمات میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکو جدید اسلحے سے لیس ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں فوج کے جوان، گاڑیاں اور جدید آلات درکار ہوں گے۔









