چوہدری پرویز الہیٰ کے گھر پر پولیس کا حملہ یا حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات سبوتاژ کرنے کا منصوبہ

سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر اینٹی کرپشن اور پنجاب پولیس کے چھاپے کی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی شدید الفاظ میں مذمت۔

لاہور میں ظہور الٰہی روڈ پر واقع تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر پولیس اور اینٹی کرپشن ٹیم نے چھاپہ مارا، چھاپے کے دوران گھر میں موجود 30 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تاہم پولیس چوہدری پرویز الہیٰ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

ظہور الٰہی روڈ کے گرد و نواح میں چھاپہ مار پولیس پارٹی کے ساتھ سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ کا گھر موجودہ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا سسرال بھی ہے ، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی بھتیجی محسن نقوی کے نکاح میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

مردم شماری  پرتحفظات دھرے رہ گئے، ایم کیوایم اعتماد کا ووٹ دیکر پھر ماموں بن گئی

وزیراعظم شہباز شریف کے اعتماد کے ووٹ پر کبھی ہاں کبھی نہ، مریم اورنگزیب کی قلابازیاں

چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "کیا ریاست نے لٹیروں اور منی لانڈرنگ کرنے والے شریفوں اور زرداریوں کےگھروں میں بھی کبھی یوں گھسنےکی ہمت و جسارت کی؟بس اب بہت ہوچکا۔ کل میں اپنی قوم کو لائحہ عمل دوں گاکہ اپنےدستور، اپنی جمہوریت پر مسلط کردہ اس تباہی کیخلاف کیسے کھڑا ہونا ہے۔”

عمران خان نے آگے بڑھتے ہوئے لکھا ہے کہ "گھر میں موجودخواتین اور اہلخانہ کےعزّت و احترام سے مکمل بےنیاز ہوکر پرویزالہٰی کےگھرپر مارےگئےغیرقانونی چھاپےکی شدیدمذمت کرتاہوں۔ہم اپنی نگاہوں کے سامنےپاکستان میں جمہوریت کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔آئین، عدالتی احکامات یا عوام کے بنیادی حقوق کاکچھ بھی احترام باقی نہیں۔”

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مزید لکھا ہے کہ "ہرسو جنگل کا قانون ہےاور فسطائیت راج کررہی ہے۔ یہ سب ہمارے حوصلوں کو توڑنے، تحریک انصاف کو کچلنے کیلئے تیار کئے گئے لندن پلان کا حصہ ہے۔ پہلے یہ میری رہائش گاہ پر حملہ آور ہوئے اور اب مجرموں کا گروہ اور اس کے سرپرست پرویز الہٰی کے ساتھ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں۔ اس قسم کی بربریت تومشرف دور میں بھی دیکھنےکو نہ ملی۔”

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر فواد حسین چوہدری نے لکھا ہے کہ "ایک طرف مذاکرات دوسری طرف گرفتاریاں؟ چوہدری پرویز الہی کے گھر چھاپہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسحق ڈار، سعد رفیق اور اعظم تارڑ کی اپنی حکومت میں کوئ حیثیت نہیں ، اس چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔”

رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے چوہدری پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "فاشسٹ حکومت طاقت کے نشے میں اندھی ہوگئی پرویز الہی صاحب کے گھر پر حملہ کردیا گیا ہے۔ گھر کے دروازے توڑے جارہے ہے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کردی تھی اس کی سزا انکو دی جارہی ہے۔”

اینٹی کرپشن  اور پولیس کے چھاپے کے دوران موقع پر موجود صحافیوں کا کہنا ہے کہ "بہت واضح ہے کہ یہ چھاپہ نہ تو اینٹی کرپشن کے حکام ہے اور نہ ہی پنجاب پولیس کا ہے ، چھاپہ مار کارروائی کرنے والے اہلکار تیسری قوت کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار کے صدور سمیت سینئر وکلاء کی بڑی تعداد چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ کے باہر موجود ہے۔

واضح رہے کہ لاہور کی انسداد بدعنوانی کی خصوصی عدالت نے جمعہ کے روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی اربوں روپے کی رشوت اور کرپشن کیس میں درخواست ضمانت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

انسداد بدعنوانی عدالت کے جج علی رضا نے ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کردی تھی۔

انسداد بدعنوانی کی عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر عدالت میں پیش ہونے پر ان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت نے پرویز الٰہی کی جمعرات تک عبوری ضمانت منظور کر لی تھی۔

متعلقہ تحاریر