لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: ڈاکٹر یاسمین راشد کی گرفتاری کا نوٹی فیکیشن کالعدم قرار

جسٹس صفدر سلیم شاہد نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صوبائی پنجاب کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ سے بڑی خبر آگئی ، عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی نظر بندی کا نوٹی فیکیشن معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے 

عمران خان کی زمان پارک میں واپسی، عدالتی حکم پر 106 پولیس اہلکار سیکورٹی پر تعینات

کور کمانڈر ہاؤس میں آتشزدگی: تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد کسی مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ عدالت نے دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکلاء کی جانب سے ان کی  رہائی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس صفدر سلیم شاہد نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کی موکلہ کی گرفتاری کو نوٹی فیکیشن قوائد و ضوابط سے ہٹ کر جاری کیا تھا، اس لیے اس نوٹی فیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

دوران سماعت سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کی تو جسٹس صفدر سلیم شاہد نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تاہم اب عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو ایک روز قبل ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ رہنما پی ٹی آئی عندلیب عباس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ان کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی بتایا کہ یاسمین راشد ڈیفنس یا کیولری گراؤنڈ میں روپوش تھیں۔

متعلقہ تحاریر