عمران خان کا 9 مئی کے بعد بننے والے مقدمات سے بچنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

درخواست سابق وزیر اعظم کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملنے والے ریلیف کے بعد دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ہفتے کے روز لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں درخواست دائر کی تھی ، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ میرے خلاف 9 مئی کے بعد بننے والے مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گرفتاری سے روکا جائے

یہ درخواست سابق وزیراعظم کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر اور انتظار حسین پنجوتھا ایڈووکیٹ نے دائر کی جنہوں نے اپنی درخواست کی حمایت میں دلائل پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو) پر حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی

وزیر اعظم کا شرپسندی میں ملوث افراد کو 72 گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) کو کیس میں فریق بنایا گیا ہے۔

اس کا مقصد عمران خان کے خلاف نئے دائر کیے گئے کسی بھی مقدمے میں ان کی ممکنہ گرفتاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ہے۔

یہ پیشرفت سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ہوئی ہے، جس نے القادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے عمران خان کی قانونی ٹیم کے اعتماد کو تقویت ملی، جس کی وجہ سے اس کی قانونی ٹیم مزید قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کرتے ہوئے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف درج نئے مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے حکم جاری کرے۔

بیرسٹر سلمان صفدر اور انتظار پنجوتا ایڈووکیٹ نے قانونی عمل میں شفافیت اور انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی گرفتاری کی اجازت دینے سے پہلے نئے مقدمات کی نوعیت اور بنیاد کا جائزہ لے۔

متعلقہ تحاریر