اینکر پرسن عمران ریاض خان کی گمشدگی: پنجاب پولیس لاہور ہائیکورٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام
معروف صحافی کو پانچ روز قبل سیالکوٹ ایئرپورٹ سے ایس ایچ او تھانہ سیالکوٹ نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے وہ منظر سے غائب ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے 5 روز سے سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار اینکر پرسن عمران ریاض خان کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کو معطل کر دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران عمران ریاض کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران ریاض کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں آئی سی یو وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں معروف صحافی اور اینکر پرسن عمران ریاض خان کی گرفتاری کے خلاف ان کے والد محمد ریاض خان کی درخواست پر خصوصی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
جنہوں نے مجھے اٹھانے کا حکم دیا اوپر کے دونوں لوگوں کو جانتا ہوں، عمران خان
عدالتی فیصلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستانی عدلیہ کا 140واں نمبر ہے، عابد شیر علی
دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ عمران ریاض تو پہلے ہی ملک سے باہر جا رہے ہیں، پھر گرفتاری کی کیا ضرورت تھی؟ ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، کیا ایس ایچ او تھانہ سیالکوٹ نے حراست کے احکامات لے لیے؟
ایچ ایچ او نے جواب دیا کہ نظر بندی کے احکامات بعد میں جاری کیے گئے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاری کس بات کی تھی؟ جب آپ اسے گرفتار کرنے ایئرپورٹ گئے تو آپ نے ان کی گرفتاری کو روزنامچے میں کہاں درج کیا؟
عدالت کے حکم پر ایس ایچ او نے ریکارڈ عدالت میں جمع کرا دیا۔ چیف جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ اس روزنامچے میں عمران ریاض کی واپسی سے متعلق ایک انٹری ہے، میں نے دیکھا آپ کی واپسی کہاں ہے؟ مجھے دکھائیں کہ آپ کو حراست میں لینے کے احکامات کہاں ملے ہیں؟
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے اینکر عمران ریاض خان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا اور پھر مقدمہ درج کیا۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عمران ریاض کو نظر بندی کے احکامات موصول ہوئے بغیر کیسے گرفتار کرلیا؟ اگر آپ نے روزانہ کی بنیاد پر مجھے تفصیلات سے آگاہ نہ کیا تو میں آپ کو معطل کرکے ابھی جیل بھیج دوں گا۔
آپ نے ایک بے گناہ شہری کو خلاف قانون گرفتار کیا ہے، مجھے ثابت کریں کہ آپ نے روزنامچے میں جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے ، آپ نے ڈپٹی کمشنر سے گرفتاری کا حکم لیا تھا؟ عدالت آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دے گی ، فی الحال آپ کو معطل کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر سرکاری وکیل نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران ریاض کی یقین دہانی کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک سے باہر جانے والے شخص سے آپ کو کس قسم کی یقین دہانی کی ضرورت ہے؟ کیا یہ انصاف؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ ڈی پی او سیالکوٹ کو بھی عہدے سے فارغ کر دیا جائے۔ آپ نے جو گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے ان کا ریکارڈ کہاں ہے، میں وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں جہاں سے آپ کو احکامات مل رہے تھے۔
دوران سماعت ڈی پی او سیالکوٹ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ جو کردار ایس ایچ او نے ادا کیا وہ مبنی برحق نہیں تھا۔
اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے عمران ریاض کی جیل سے رہائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کمرہ عدالت میں چلانے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 دن میں جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 7 دن کے لیے معطل کر دیا۔
چیف جسٹس امیر بھٹی نے ایس ایچ او کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو عدالت سزا سنائے گی۔
یاد رہے کہ معروف نیوز اینکر عمران ریاض خان کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے عدالتی حکم پر جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن رہائی کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔









