پنجاب میں بچیوں کے مقابلے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ، رپورٹ

محکمہ داخلہ پنجاب کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے بھر میں بچیوں کے مقابلے میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات 69 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

جمعرات کے روز محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بےپناہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں رواں سال جنوری سے 15 جون تک کا ریکارڈ دکھایا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے عرصے میں لڑکوں میں جنسی زیادتی کا فیصد 69 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے 31 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ سب سے زیادہ کیس گوجرانوالہ میں درج ہوئے جبکہ راولپنڈی اور لاہور میں 10 اضلاع میں سب سے کم کیسز درج ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے ، اس بات کی مانگ کرتی ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے میں بچوں کے تحفظ کے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور معاشرے کی رہنمائی کے لیے آگاہی مہم چلائی جائے۔ بچوں میں بیداری کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور ان کی حفاظت کے بہتر طریقے اپنائے جائیں۔

پنجاب حکومت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے ایسے کیسز بھی ہیں جو رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "خوف اور سماجی مسائل کی وجہ سے” کیسز درج نہیں کرائے جاتے۔

سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک تحقیقی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں 2022 کے 10 ماہ میں کم از کم 4,503 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

مقدمات کی تعداد قوم کو زینب انصاری کی عبرتناک موت کی یاد دلاتی ہے۔ جنوری 2018 میں چھ سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ مجرم عمران علی کو اکتوبر 2018 میں پھانسی دے دی گئی۔ دو سال بعد حکومت نے مارچ 2020 میں زینب الرٹ، رسپانس اور ریکوری ایکٹ نافذ کیا۔

متعلقہ تحاریر