9 مئی کو صرف پرامن احتجاج کا منصوبہ تھا، عمران خان کا جے آئی ٹی کو جواب

ڈان نیوز کے مطابق جے آئی ٹی نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر میں پی ٹی آئی چیئرمین سے تقریباً 50 منٹ تک پوچھ گچھ کی۔

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 9 مئی کو ہماری پارٹی کا فوجی تنصیبات کے علاقوں میں پرامن احتجاج کرنے کا منصوبہ تھا۔ جمعے کے روز چیئرمین پی ٹی آئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔

عمران خان نے فوجی تنصیبات پر حملوں کے لیے پی ڈی ایم حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 9 مئی کو صرف پی ٹی آئی کو بدنام کرنے ان کے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔

اس پیش رفت سے متعلق جے آئی ٹی کے ایک اہلکار نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ اہلکار نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر میں پی ٹی آئی چیئرمین سے تقریباً 50 منٹ تک پوچھ گچھ کی۔

یہ بھی پڑھیے 

استحکام پاکستان پارٹی نے عقاب کو انتخابی نشان کے طور پر حتمی شکل دے دی

چیئرمین تحریک انصاف نے پیر کے روز تک اپنی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کردیا

ٹیم کے ارکان نے لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے عمران خان کے کردار اور ملوث ہونے کے حوالے سے 35 سوالات پوچھے۔

جے آئی ٹی کا سابق وزیراعظم سے سب سے زیادہ پریشان کرنے والا سوال یہ تھا کہ جب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے تو وقت، اہداف اور طریقہ کار ایک جیسا کیوں تھا؟۔

سرکاری ذریعے نے ڈان نیوز کو بتایا کہ سوال کے جواب میں عمران خان نے اپنا موقف پھر دہرایا کہ "یہ سب کچھ ریاستی مشینری نے مجھے اور میری پارٹی کے لوگوں کو بدنام کرنے کے لیے کیا”۔

9 مئی کے حملوں میں پی ٹی آئی کی اول درجے کی قیادت کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، سابق وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پہلے ہی ان کی گرفتاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور انہوں نے اپنی ‘پچھلی حکمت عملی’ کے مطابق ایسا کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق تفتیش کے دوران سابق وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے ارکان کو (انتباہی لہجے میں) کہا کہ ان کی پارٹی (پی ٹی آئی) آنے والے انتخابات میں اقتدار میں آئے گی۔

اہلکار نے ڈان نیوز کو بتایا کہ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے عمران خان کا رویہ جے آئی ٹی افسران کو خبردار کرنے والا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی دہشت گردی کے مقدمات میں ان سے اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے پوچھ گچھ یا تفتیش کرتے ہوئے ‘غیر جانبدار یا محتاط رہیں’۔

جے آئی ٹی کے اہلکار نے ڈان نیوز کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے دو سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سے بھی الگ الگ پوچھ گچھ کی۔

انہیں ٹیم نے 9 مئی کو لاہور میں ان کے خلاف درج مقدمات کے تناظر میں بھی طلب کیا تھا، ذرائع نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے عمران خان اور دیگر کو اپنے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد جانے دیا۔

عمران خان کے نام سمن

لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے سابق وزیراعظم کو جمعہ کی شام 4 بجے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا تھا۔

لاہور کے ڈی آئی جی (انویسٹی گیشن) کی جانب سے جاری سمن نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ‘عمران خان کو پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کو سونپی گئی تحقیقاتی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے دفتر میں حاضر ہونا ضروری ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ کامران عادل ایک کورس میں شرکت کے لیے بیرون ملک گئے تھے ان کی غیرموجودگی میں ایس ایس پی عمران کشور نے جمعہ کو جے آئی ٹی کی سربراہی کی تاکہ عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، اور اسد عمر سے تفتیش کی جا سکے۔

جے آئی ٹی نے عمران خان پر حملہ آوروں کو اکسانے کا الزام لگایا ہے، جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس اور دیگر تنصیبات میں توڑ پھوڑ کی اور ان کو نذر آتش کیا ، جبکہ عمران خان زیر حراست تھے۔

عمران خان کو 9 مئی کے حملوں کے تناظر میں لاہور کے مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔

اسد عمر کی تصدیق

بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے میڈیا کو تصدیق کی کہ عمران خان نے جمعہ کو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ہیڈ کوارٹر آفس میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

متعلقہ تحاریر