لاہور میں طلاقوں میں اضافہ ، فیملی کورٹس کی تعداد دُگنی کر دی گئی
ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران لاہور کی فیملی کورٹس میں 11 ہزار طلاق کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں گزشتہ 4 سال کے دوران طلاق کے کیسز میں اضافے کے باعث فیملی کورٹس کی تعداد 6 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔
طلاقوں میں اضافے کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت لاہور میں فیملی کورٹس کی تعداد 6 سے بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے دوران تقریباً 11 ہزار خواتین کی جانب سے خلع کی درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
بنیادی اصلاحات سے عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا
ماہرہ خان نے عروج آفتاب کے گانے کی تعریف کردی
سیشن جج کے مطابق، گذشتہ چار سالوں کے دوران طلاق کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے لاہور میں فیملی کورٹس کی تعداد چھ سے بڑھا کر بارہ کر دی گئی ہے۔
اس پیشرفت کی اطلاع ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں دی گئی ، جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ سال کے لاک ڈاؤن میں 11 ہزار سے زائد خواتین نے خلع کی درخواست دائر کی تھی۔
یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلاق کے مقدمات عدالتوں میں زیادہ تر تاخیر کا شکار ہورہے ہیں کیونکہ فیملی جج شادی کو تحلیل کرنے کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے ، جوڑے میں صلح کرانے کی کوشش کرتا ہے۔
مزید یہ کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شکایت کنندگان اور ججوں کے درمیان گفت و شنید کے لیے ایک خصوصی مرکز قائم کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ زیادہ تر مقدمات میں کوئی معاہدہ نہیں کیا جاتا۔
ایک رپورٹ کے مطابق مذکورہ عدالتوں کو مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 150 خلع کی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔
گیلپ پاکستان کے 2019 کے ایک سروے کے مطابق دیہی علاقوں سمیت پاکستان بھر میں طلاق کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جب کہ 2020 – 2021 کے دوران اس کی شرح میں اضافے کی وجوہات میں کووڈ 19 کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ طلاقوں میں اضافے کی وجوہات میں جبری شادیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ 58 فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ملک میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ہر پانچ میں سے دو پاکستانیوں کا خیال ہے کہ طلاق کے زیادہ تر کیسز میں سسرالی ذمہ دار ہوتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق سال 2020 کی پہلی سہ ماہی میں کراچی میں طلاق کے 3,800 کیسز درج کیے گئے، جب کہ راولپنڈی کی فیملی کورٹس میں جنوری سے نومبر 2021 تک طلاق، خلع، سرپرستی اور نفقہ کے 10،312 کیسز رپورٹ ہوئے۔









