سیکڑوں برس پر محیط میلا چراغاں کی مذہبی اور تاریخی اہمیت

مادھو لال حسین کا عرس اور میلہ ہمیشہ اکٹھے ہی منائے جاتے ہیں اور اس مقصد کے لئے مارچ کا آخری ہفتہ مختص کیا گیا۔

باغوں کا شہر لاھور ہمیشہ سے اپنی سرگرمیوں اور کھانوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور رہا ہے چاہے وہ سیاسی سرگرمیاں ہو یا ثقافتی سرگرمیاں، لاہور ان سرگرمیوں کا ہمیشہ سے مرکز رہا ہے اور یہاں پر منعقد ہونے والے کچھ میلے اور تہوار ایسے ہیں جو سینکڑوں سالوں سے اس سر زمین پر ہوتے چلے آ رہے ہیں، انہی میں سے ایک ہے میلہ چراغاں۔

یہ میلہ کب اور کیوں شروع ہوا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس بات کے شواہد ضرور ملتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند جب متحد تھے تب سکھوں کے دور میں بھی یہ میلہ منایا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

موٹروے پولیس کالج، خواتین افسران کیلیے نئے بیرکس کا افتتاح

پنجاب کلچر ڈے کے موقع پر اسپیشل بچوں کی شاندار پرفارمنس

انٹرنیٹ پر کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ راجہ رنجیت سنگھ خود اپنے درباریوں کے ساتھ اس میلے میں شریک ہوتے تھے اور باغبانپورہ میں شاہ حسین کے دربار پر گیارہ سو روپے اور ایک جوڑا بسنتی چادروں کا چڑہاوے کے طور پر دیا کرتے تھے۔

MELA CHARAGAN

یہ میلہ موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا تھا۔ تقسیم ہند سے قبل اس میلے میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میلے کا پھیلاؤ دہلی دروازے سے لے کر شالامار باغ تک ہوا کرتا تھا اور زائرین کی کثیر تعداد شاہ حسین کے مزار پر چراغ جلایا کرتی تھی اور منتیں مانا کرتی تھی۔ اسی مناسبت سے اس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔

تاریخی کتابوں میں یہ بھی لکھا گیا ہے ایک روز قرآن کی تفسیر پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے ترجمہ ’دنیا ایک کھیل کود کے سوا کچھ نہیں‘ اس آیت کا شاہ حسین پر ایسا اثر ہوا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لال کپڑے پہن، داڑھی مونچھ منڈوا کر گانا بجانا اور پینا پلانا شروع کر دیا اور فقیروں کے ملامتیہ فرقے میں شامل ہو گئے اور زندگی کے بقیہ ستائیس برس جذب و سکر کی حالت میں گزارے۔ اسی دور میں شاہ حسین کو ایک برہمن ہندو لڑکے مادھو لال سے عشق ہو گیا اسی عشق کی وجہ سے لوگ شاہ حسین کو شاہ حسین کی بجائے مادھو لال حسین کہنے لگے۔ مادھو نے بھی سر تسلیم خم کیا اور باقی تمام عمر شاہ حسین کی مریدی میں گزار دی۔

MELA CHARAGAN

وہی شاہ حسین کا عرس کے حوالے سے یہ بات بھی عام ہے کہ شاہ حسین کا عرس ہر سال رجب کی پہلی تاریخ کو ہوا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ عرس اور میلہ ایک ہی وقت میں اکٹھے ہو گئے تب سے اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ عرس اور میلہ ہمیشہ اکٹھے ہی منائے جائیں گے اور اس مقصد کے لئے مارچ کا آخری ہفتہ مختص کیا گیا۔

راوی لکھتا ہے کہ ایک روزشاہ حسین اسی جذب و مستی کی حالت میں چھت سے گرے اور داعئی عدم ہو گئے۔ شاہ حسین کو پہلے مادھو لال نے اپنے علاقے شاہدرے میں دفنایا مگر (شاہ حسین کی پیشین گوئی کے مطابق) بارہ برس بعد سن سولہ سو تیرہ میں جب دریائے راوی نے اپنا رخ بدلا تو مادھو لال نے شاہ حسین کو شاہدرے سے نکال کر باغبانپورہ میں دفن کیا اور اپنی باقی ماندہ زندگی مزار کی مجاوری میں گزار دی۔ اور جب مادھو سن سولہ سو چھتیس میں فوت ہوا تو اس کی قبر بھی شاہ حسین کے برابر میں بنائی گئی۔

MELA CHARAGAN

میلا چراغاں کے متعلق پاکستان بننے کے بعد کی تاریخ

میلہ چراغاں یا میلہ شالامار دراصل پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین کے عرس کی تین روزہ تقاریب کا نام ہے۔ یہ تقاریب شاہ حسین کے مزار، جو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں واقع کے قریبی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں۔

باغبانپورہ کا علاقہ لاہور شہر کے باہر شالیمار باغ کے قریب واقع ہے۔ یہ تقاریب پہلے شالامار باغ کے اندر منعقد ہوا کرتی تھیں مگر ماضی میں صدر ایوب خان کے صدارتی حکم 1958ء کے بعد سے شالیمارباغ میں ان تقاریب کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی۔

MELA CHARAGAN

صوبائی دارالحکومت لاہور جس کو باغوں کا شہر کہنے کے ساتھ ثقافتی اعتبار سے بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ جیسے جشن بہاراں میں بسنت اور گرمیوں کے آغاز میں میلا چراغاں کا اہتمام ہوتا تھا، پہلے پہل یہ عرس پنجاب میں سب سے بڑی تقریب سمجھا جاتا تھا مگر اب یہ بسنت کے بعد دوسرا بڑا ثقافتی تہوار ہے۔ ماضی قریب تک یہ میلہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا کلچرل فیسٹول گردانا جاتا تھا۔ اب بسنت پر پابندی کے باعٹ یہ پھر بڑی تقریبات میں شمار ہوتا ہے۔ ایک میلہ جو ہر سال ماہ مارچ کے آخری ہفتے اور اتوار کو باغبان پورہ لاہور میں لگتا ہے۔ اگرچہ اسے مشہور صوفی حضرت مادھو لال حسین کی یادگار سمجھا جاتا ہے لیکن دراصل یہ ایک موسمی میلہ تھا۔ اتفاق سے ایک دفعہ مادھو لال حسین کا عرس انہی تاریخوں میں آگیا جو میلے کے لیے مخصوص تھیں اور یہ دونوں اکھٹے منائے گئے۔ میلے میں زیادہ تعداد کسانوں کی ہوتی ہے جو اپنی منڈلیوں کے ساتھ گاتے بجاتے اور ناچتے آتے ہیں۔ اس موقع پر جو گیت گائے جاتے ہیں ان میں ’’بولیاں‘‘ خصوصی حیثیت کی حامل ہوتی ہیں۔

شہر لاہور میں میلا چراغاں کے دن عام تعطیل ہوتی سرکاری سطح پر چھٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اس دن کو مذہبی اہمیت حاصل ہے لوگ اس دن میلا چراغاں پر جاتے ہیں وہاں ذکر اذکار کی محافل کا انعقاد کیا جاتا یے لوگ چاردیں چراتے ہیں نیاز و لنگر کا اہتمام بھی ہوتا ہے ایک جگہ پر چراغاں کا خصوصی اہتمام بھی ہوتا ہے جبکہ ملنگوں کی ڈھول کی تھاپ پر دھمال بھی خاص اس میلے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

متعلقہ تحاریر