چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا طالبہ کے اغوا کا مثالی ازخود نوٹس
چیف جسٹس لاہور کورٹ کے ازخود نوٹس کو سراہتے ہوئے سماجی حلقوں کا کہنا ہے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کب ازخود نوٹس لیں گے اور پولیس ان کے احکامات پر عملدرآمد کرے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے لاہور کی طالبہ کے اغوا کا مثالی ازخود نوٹس لیا ہے جس کے بعد پولیس نے مغویہ کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر بازیاب کرالیا۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایسا نوٹس کب لیں گے۔
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے لاہور کے علاقے شادباغ سے اغواء ہونے والی طالبہ کا ازخود مثالی نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ملتوی، اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد
پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل کئی اہم عہدیداروں کو گرفتار کرلیا گیا
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے رات 10 بجے کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے بعد پنجاب پولیس نے پاکپتن کی تحصیل عارف والا سے میٹرک کی مغوی طالبہ کو بازیاب کرالیا جسے اس کے سابق منگیتر نے لاہور کے علاقے شادباغ سے اغوا کیا تھا۔
اغوا کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔؎
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس بھٹی نے آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان اور لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) بلال صدیق کامیانہ کو رات 10 بجے کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے بعد لڑکی کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
رات ساڑھے دس بجے چیف جسٹس نے سماعت دوبارہ شروع ہوئی اور عدالت کو بتایا گیا کہ بچی بازیاب ہو گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو جلد از جلد کیس کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے از خود نوٹس کو نمٹا دیا۔
سی سی پی او کامیانہ نے میڈیا کو بتایا کہ اغواء کاروں نے طالبہ کو منگنی توڑنے کے بعد اغوا کیا تھا اور محکمہ پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے اغوا کاروں کا سراغ لگایا۔
پولیس کے مطابق لڑکی اپنے بھائی کے ساتھ امتحان میں شرکت کے لیے جارہی تھی کہ چار نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرلیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اغوا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے بتایا کہ انہوں نے ملزم کے والدین اور سہولت کار سمیت 13 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حکام کا کہنا ہے ملزم عابد کو پستول فراہم کرنے والے سہولت کار کی شناخت بھی ہوگئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا اغوا کار مغوی لڑکی کو قصور لے گئے تھے۔
چیف جسٹس لاہور کورٹ کے ازخود نوٹس کو سراہتے ہوئے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کراچی سے اور اندرون سندھ سے آئے روز بچیاں اور خواتین اغواء ہوتی رہتی ہیں ، اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کب ازخود نوٹس لیں گے اور پولیس ان کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے مغویان کو بازیاب کرائیں گئے۔









