پنجاب کا سیاسی بحران: وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الہٰی کا متوازی سفر جاری

پنجاب میں سیاسی بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الٰہٰی کا متوازی سفر جاری ہے۔

پاکستان کا صوبہ پنجاب بدترین آئینی بحران کا شکار، صوبے میں دو اجلاس  جاری رہے اپوزیشن کا اجلاس پنجاب اسمبلی میں اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی کی زیر صدارت ہوا جبکہ حکومت کی جانب سے بجٹ اجلاس پر بحث ایوان اقبال میں پینل آف چیئرمین خلیل طاہر سندھو کی زیر صدارت ہوا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین بڑی تعداد میں موجود نظر آئے دوسری طرف ایوان اقبال کے اجلاس میں حکومتی اراکین کی عدم دلچسپی نظر آئی۔ واضح رہے کہ منگل کا روز پرائیویٹ ممبر ڈے ہوتا ہے جس میں معمول کی کارروائی کی بجائے قراردادیں پیش کی جاتی ہے اور ان پر اراکین کو اعتماد میں لیتے ہوئے منظور یا مسترد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت داخلہ کا پی ٹی آئی کے احتجاج  روکنے کیلئے 18کروڑ روپے کا مطالبہ

امریکی آشیرباد سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پاگیا

گزشتہ روز ایوان اقبال میں ہونے والا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صرف 36 ارکان نے شرکت کی ، وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف سمیت تمام صوبائی کابینہ اجلاس سے غیرحاضر رہی۔

توقع کی جارہی تھی کہ بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں بجٹ گرانٹس کی منظوری دی جائے گی جبکہ فنانس بل بھی آج ہی منظور کیے جانے کی امید تھی ، ضمنی بجٹ جمعرات کو اٹھایا جانا تھا اور جمعہ کو منظور کیا جائے گا۔

دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے متوازی اجلاس میں اسپیکر پرویز الٰہی نے پنجاب مفت اور لازمی تعلیم (ترمیمی) بل 2020 وزیراعلیٰ ، وزیر قانون اور خزانے کے کسی بھی رکن کی عدم موجودگی میں منظور کر لیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی اے میاں شفیع محمد نے پرائیویٹ بل پیش کیا تھا جسے ارکان اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا ، مسودہ دسمبر 2020 سے زیر التواء تھا جسے قائمہ کمیٹی برائے اسکول ایجوکیشن کو بھیجا گیا تھا۔

اس وقت بل پیش کرنے والوں میں پی ٹی آئی کے میاں شفیع، سعدیہ سہیل رانا، سبرینا جاوید، ملک واثق مظہر، شاہینہ کریم، فرح آغا اور شمیم ​​آفتاب شامل تھے۔ منگل کے روز مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی سے غائب تھے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں میاں شفیع نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو یقینی بنائے۔ اس مقصد کے لیے اکتوبر 2014 میں ایک قانون پاس کیا گیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترمیمی بل میں مطالبہ کیا گیا کہ قانون کو مطلع کیا جائے اور اس کے نفاذ کے لیے قواعد وضع کیے جائیں۔

اطلاعات کے مطابق اسپیکر چوہدری پرویز الٰہٰی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 80 سے 85 اراکین اسمبلی موجود تھے۔

متعلقہ تحاریر