پنجاب کابینہ کی پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے اندراج کے لیے وفاق سے مشاورت

صوبائی وزرا کا کہنا ہے پُرامن احتجاج کی اجازت ہے لیکن بغیر اجازت کے سڑکیں بند کر کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کو سختی سے نمٹا جائے گا۔

پنجاب کے صوبائی وزرا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات کے اندراج کے لئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے اور ہتک عزت کے قانون کے تحت مقدمات درج کرنے کے لئے مشاورت شروع کر دی ہے۔

صوبائی کابینہ اور پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے حوالے سے ایوان وزیراعلیٰ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور ملک احمد خان نے پی ٹی آئی رہنماوں کے خوب لتے لئے۔ بولے فواد چودھری، قاسم سوری، عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کیخلاف آرٹیکل سکس کی کارروائی ہونی چاہیئے جبکہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کیخلاف ہتک عزت کے قانون کے تحت مقدمات چلانے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہم و گمان میں بھی نہیں تھا آرمی چیف کی تبدیلی گلے پڑجائے گی، عمران خان

ملک احمد خان کہتے ہیں کہ ہم نے ان کیخلاف کارروائی کے لئے کسی ریاستی ادارے سے اجازت نہیں لینی کیونکہ تمام ثبوت و شواہد موجود ہیں۔

وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ نے عمران خان پر تنقید کے نشتر چلائے، بولے انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلی کے اختیارات اپنی اہلیہ اور فرح گوگی کو دے رکھے تھے، ابھی ہم نے کیس بنائے نہیں اور وہ ضمانتیں کرواتے پھر رہے ہیں، اگر ہم نے کیس بنائے تو ان کا کیا حال ہو گا۔

صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ کا کہناہے پی ٹی آئی والے مستعفی ہونے کے اعلان کے باوجود تنخواہوں اور میڈیکل بلوں کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی کی منتیں کرتے ہیں، ان میں ذرا سی شرم و حیا ہونی چاہیئے۔

وزیر خزانہ سردار اویس لغاری نے نئے بلدیاتی نظام میں یونین کونسل تک کو مالی طور پر خودمختار بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بلدیاتی نظام ایک انقلابی اقدام ہوگا۔

سردار اویس لغاری نے کہا کہ ہمارا بلدیاتی نظام ملکی تاریخ کا سب سے بہترین نظام ہو گا جس سے عوامی مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوا کرینگے۔

صوبائی وزرا کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہے لیکن بغیر اجازت کے اتوار کو لاہور میں سڑکیں بند کر کے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کو سختی سے نمٹا جائے گا۔ جلد ہی صوبے میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے تاکہ مضبوط بلدیاتی ادارے عوامی مسائل عوام کی دہلیز پر حل کرنا شروع کر سکیں۔

متعلقہ تحاریر