حمزہ شہباز کی حکومت کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک کی مہمان
لاہور ہائی کورٹ لارجز بینچ نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے الیکشن بارے اپیلوں پر سماعت کل ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی فل بنچ نے محمود الرشید، سبطین خان سمیت دیگر کی اپیلوں پر سماعت کی۔
فل بنچ میں جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس شہرام سرور چودھری ، جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مونس الہٰی نے چوہدری شجاعت کو ن لیگ سے متعلق انکے خیالات یاد دلادیے
لاہور ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ ، حمزہ شہباز مشکل میں
پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت پیش ہوئے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا نصر احمد پیش ہوئے۔
اپیل کنندگان کی طرف سے امتیاز صدیقی، صفدر شاہین پیرزادہ ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔
وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی طرف سے منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے احمد اویس ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
عدالتی سماعت کی مکمل روداد
کیا گورنر اور صدر کے متعلق فیصلے میں ریمارکس پر کچھ کہنا چاہیں گے؟ عدالت کا احمد اویس ایڈووکیٹ سے استفسار
فرض کریں حلف کا نوٹیفکیشن بھی اڑا دیتے ہیں؟ پھر ریمارکس کی حد تک معاملہ باقی رہ جائے گا؟ جسٹس ساجد محمود سیٹھی
میری گزارش یہی ہے کہ گورنر اور صدر سے متعلق ریمارکس کو کالعدم کرنا پڑے گا، احمد اویس ایڈووکیٹ
کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟ جسٹس صداقت علی خان
آپ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ گورنر اور صدر مملکت کو سنا ہی نہیں گیا اس لئے ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟ جسٹس ساجد محمود سیٹھی
فاضل بنچ کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے
احمد اویس صاحب! آپ نے عدالت کی معاونت کرنی ہے عدالت نے آپ کی معاونت نہیں کرنی، جسٹس طارق سلیم شیخ
احمد اویس ایڈووکیٹ صاحب! آپ کو دوبارہ 5 منٹ میں سنتے ہیں، جسٹس صداقت علی خان
کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ماضی ہو سکتا ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
سپریم کورٹ کے فیصلے پر پہلے ہم حمزہ شہباز کے وکیل کے دلائل سنیں گے، جسٹس شاہد جمیل خان
حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست میری تھی اس لئے مجھے پہلے سنا جائے، بیرسٹر علی ظفر
اب تو پورے پاکستان کو پتہ چل گیا ہے ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا ماضی سے اطلاق کرنے لگے ہیں، جسٹس شاہد جمیل خان
اسی لئے ہم پہلے حمزہ شہباز کے وکیل کو سنیں گے، جسٹس شاہد جمیل خان
آپ صرف عدالتی سوالوں کے جواب دیں گے، لمبے دلائل نہیں دیں گے، جسٹس شاہد جمیل خان
آئین کے آرٹیکل 186 کے دائرہ اختیار میں جاری فیصلوں کا ماضی سے اطلاق ہو سکتا ہے؟ عدالت
سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے جو اصول طے کیا گیا اس کا اطلاق مستقبل میں ہو گا، وکیل حمزہ شہباز
اگر کسی فیصلے کا اطلاق ماضی سے کرنا ہو تو عدالتی فیصلے میں اس کا ماضی سے اطلاق سے متعلق تحریر کیا جاتا ہے، وکیل حمزہ شہباز
صدارتی ریفرنس پر کوئی فیصلہ آیا ہو جس کا اطلاق ماضی سے نہ ہوا ہو اس کا حوالہ پیش کریں، جسٹس شاہد جمیل خان
آئین کے تحت سپریم کورٹ کا منحرف اراکین سے متعلق فیصلہ آئین کا حصہ تصور کیا جاتا ہے، جسٹس صداقت علی خان
امریکی عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق عدالتی فیصلوں کا اطلاق حال اور مستقبل سے ہوتا ہے، مرزا نصر احمد
وہ فلاسفی ہے، امریکی عدالتوں کے فیصلے ہم پر لازم و ملزوم نہیں ہیں، جسٹس شاہد جمیل خان
آپ یا تو سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست میں اس عدالت میں کارروائی کو معطل کرواتے، جسٹس شاہد جمیل خان
آپ کیا یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف دائر نظر ثانی اپیل کے فیصلے تک اس معاملے کو التواء میں رکھیں؟ عدالت
میری استدعا تو یہی ہے کہ اس معاملے کو التواء میں رکھا جائے، وکیل حمزہ شہباز
اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ سپریم کورٹ فیصلے اطلاق ماضی سے ہو سکتا ہے تو پھر ہم تاخیر نہیں کریں گے، جسٹس شاہد جمیل خان
سپریم کورٹ میں تحریک انصاف نے 14 اپریل کو دائر درخواست میں بھی یہ نشاندہی نہیں کی کہ پنجاب کے اراکین منحرف ہو رہے ہیں، وکیل حمزہ شہباز
آپ کچھ ایسا بتائیں جہاں سپریم کورٹ کے خصوصی دائرہ اختیار پر کوئی فیصلہ ہو اور اس کا ماضی سے اطلاق ہوا یا نہیں ہوا ہو، جسٹس شاہد جمیل خان
آپ باقی ساری باتیں بتا چکے ہیں، دلائل مکمل کریں آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، جسٹس شاہد جمیل خان
حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل مکمل کر لئے
بیرسٹر علی ظفر کے دلائل
عدالت اس معاملے پر ماضی یا مستقبل کے نکتے پر نہ جائے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کر دیا جائے، بیرسٹر علی ظفر
آپ الیکشن کے فوری بعد عدالت میں نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار کے بعد آئے ہیں، اس کی وضاحت بھی ضروری ہے، عدالت
کیا عدالت حمزہ شہباز کے وزیر اعلی کا نوٹیفکیشن کالعدم کر سکتی ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
کیا یہ عدالت پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا کر سکتی ہے؟ جسٹس صداقت علی خان
اگر منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں کئے جاتے تو عدالت کو پریزائیڈنگ افسر کو ہدایت کرنا پڑے گی کہ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں، بیرسٹر علی ظفر
عدالت صرف پریزائیڈنگ افسر کو کہہ سکتی ہے کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار کر کے غلط کیا گیا، جسٹس صداقت علی خان
دوبارہ انتخاب ہو گا مگر حمزہ شہباز کا نوٹیفکیشن کالعدم ہو گا، بیرسٹر علی ظفر
حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست میں وکیل مشتاق احمد کے دلائل
عدالت کو حمزہ شہباز کے وزیر اعلی بننے کا نوٹیفکیشن کالعدم کرنا پڑے گا، مشتاق احمد موہل ایڈووکیٹ
دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دینا عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہے، مشتاق احمد موہل ایڈووکیٹ
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کے دلائل جاری
عمران خان کے اراکین اسمبلی کو جاری شوکاز نوٹسز میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کو تسلیم کیا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب
سپریم کورٹ کے فیصلے کے ماضی سے اطلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سپریم کورٹ میں 14 اپریل کو درخواست دائر ہوئی الیکشن 16 اپریل کو ہوئے، وکیل وفاقی حکومت
25 منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کرنا پریزائیڈنگ افسر کا کام تھا اور اسے پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی ہدایت نہیں تھی، مرزا نصر احمد وکیل وفاقی حکومت
میں نے اپنے دلائل تحریری اور تفصیلی جمع کرا دیئے ہیں، امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ
حمزہ شہباز کا حلف غیر قانونی تھا، امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ
میرا کہنا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کے ذریعے حلف کو کالعدم ہونا چاہئے، امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ
صدر اور گورنر کے خلاف سنگل بینچ کے ریمارکس کالعدم ہونے چاہئیں، وکیل تحریک انصاف
اگر حلف غیر قانونی قرار ہوا تو 31 مئی تک جتنے بھی اقدامات کئے گئے ہیں وہ سارے کالعدم ہو جائیں گے، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
اسمبلی کے 2 اجلاس چل رہے ہیں جنہیں چیلنج بھی کیا گیا ہے، یہ سب کہاں جائے گا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
یہ سب کہاں جائے گا یہ ہم لکھیں گے، جسٹس صداقت علی خان
ایم پی اے زینب نے الیکشن کو چیلنج کیا ہے جو عدالت کے سامنے ہے، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
کیا الیکشن کے معاملے پر کوئی انکوائری موجود ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے گورنر کو رپورٹ بھجوائی تھی، عامر سعید راں ایڈووکیٹ
کیا سیکرٹری اسمبلی کی رپورٹ کو حقائق پر مبنی رپورٹ قرار دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
کیا ہائیکورٹ حقائق کی تحقیقات کر سکتی ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
اگر آپ کو کوئی وقت چاہئے تو بیٹھ کر تیاری کر لیں، جسٹس شاہد جمیل خان
گورنر نے اپنے اختیارات کے تحت اسمبلی میں الیکشن سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی، وکیل ایم پی اے زینب
اس معاملے میں ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی داد رسی کا فورم موجود نہیں ہے، وکیل ایم پی اے
فوٹیجز موجود ہیں اسمبلی میں کیا ہوا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
ذاتی حیثیت میں عدالت جو ٹی وی پر دیکھتی ہے کیا اس کو تسلیم شدہ حقائق تصور کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
میں تو صرف حقائق بتا رہا تھا، اظہر صدیق ایڈووکیٹ
ڈپٹی اسپیکر نے رپورٹ میں کہا کہ اس نے ہائیکورٹ کے حکم پر سارا الیکشن کروایا، عامر سعید راں ایڈووکیٹ
ہائیکورٹ نے اپنے آرڈر میں یہ نہیں کہا تھا کہ اسمبلی میں پولیس کو طلب کیا جائے، عامر سعید راں ایڈووکیٹ
یہ متنازع حقائق ہیں ہم اس میں نہیں جائیں گے، جسٹس شاہد جمیل خان
کیا گورنر الیکشن سے متعلق رپورٹ مانگ سکتا ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
عامر سعید راں ایڈووکیٹ صاحب اس درخواست کو واپس لے لیں کسی اچھے وقت میں چیلنج کیجئے گا، جسٹس شاہد جمیل خان کا قانونی مشورہ
ہم پہلے دن سے اپنا ذہن ظاہر کر کے چل رہے ہیں، کچھ بھی نہیں چھپایا، جسٹس شاہد جمیل خان
عامر سعید راں اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل
کیا گورنر اسمبلی اجلاس طلب اور ملتوی کر سکتا ہے؟ جسٹس صداقت علی خان
گورنر ہی اجلاس طلب کرنے اور غیر معینہ مدت تک ملتوی کر سکتا ہے، وکیل حمزہ شہباز
کیا گیلری چیمبر کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس شاہد جمیل خان
کیا کوئی نوٹیفیکیشن ایسا موجود ہے جس میں گیلری کو چیمبر کا حصہ قرار دیا گیا ہو، جسٹس شاہد جمیل خان
کتنے ووٹ تھے، کتنے ووٹ نکالنے ہیں یہ سارا کچھ پریزائیڈنگ افسر نے کرنا یے، جسٹس شاہد جمیل خان
دوست محمد مزاری پر حملہ کیا گیا، وکیل ڈپٹی اسپیکر
ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کیا، وکیل ڈپٹی سپیکر
عدالت کو ہنگامے سے متعلق آگاہ کیا اسی وجہ سے آئی جی کو عدالت نے معاونت کا حکم دیا تھا، وکیل ڈپٹی اسپیکر
وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر 5 رکنی بینچ نے فیصلے سنانے کے لیے کل ساڑھے بارہ بجے تک عدالت ملتوی کردی۔









