سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف پنجاب انتظامیہ ن لیگ کو جتوانے کی کوششوں میں مصروف
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے ایما پر پی ٹی آئی کے انتخابی دفتر پر پولیس کا دھاوا سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
منگل کی رات پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے سپریم کورٹ کے احکامات کو بلائے طاق رکھتے ہوئے لاہور کے حلقہ پی پی 168 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ملک نواز اعوان کے انتخابی دفتر پر چھاپہ مار کارروائی کی۔ ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ پی پی 217 ملتان 7 میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے امیدوار کی جانب سے ووٹ خریدنے کی کوششوں کا نوٹس لیتے ہوئے ن لیگ کے امیدوار کو طلب کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے حلقہ پی پی 168 میں پی ٹی آئی کے امیدوار ملک نواز اعوان کے انتخابی دفتر پر پولیس نے عین اس وقت چھاپہ مارا جب کارنر میٹنگ جاری تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ملک میں خوشحالی نہ آئے تو مجھے لٹکا دینا، سید خورشید شاہ کا دعویٰ
لیہ اور بھکر میں تحریک انصاف کے انتخابی جلسے، عوامی سیلاب امڈ آیا
پی ٹی آئی امیدوار ملک نواز اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ان کے سیکورٹی گارڈز کو گرفتار کر کے اس کا اسلحہ قبضے میں لے لیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران مزاحمت کرنے والے پی ٹی آئی کے چار کارکنوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
ملک نواز اعوان نے مزید بتایا کہ پولیس حکام نے مجھے انتخابی مہم ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ملک نواز اعوان کا کہنا تھا پولیس کا جو بھی اقدام تھا غیرقانونی تھا ، کیونکہ ان کے گارڈز کے پاس جو اسلحہ موجود تھا وہ لائسنس یافتہ تھا۔
انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کی مقبولیت سے خائف ہے اس لیے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی مشینری کا استعمال کررہی ہے۔
پولیس حملے کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کارنر میٹنگ شادی ہال کے اندر ہو رہی تھی جہاں ڈی ایس پی ڈیفنس سرکل نے چھاپہ مارا۔ چھاپہ مار ٹیم کے ہمراہ مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی موجود تھے ، ہم اس چھاپہ مار کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔
فرخ حبیب کا کہنا ہے ’جعلی وزیراعلیٰ‘ کو جلد پیکنگ میں واپس بھیج دیا جائے گا ، حکمران جماعت کو اب اپنی واضح شکست دکھائی دے رہی ہے اس لیے منفی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے پولیس حکام سے کہا کہ وہ پنجاب حکومت کی ذاتی ملازم بننے کی بجائے ریاست کے خادموں کے طور پر کام کریں۔
پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی انتخابی مہم ناکام ہو چکی ہے اور پنجاب کے وزراء نے استعفے دینا شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کا چھاپہ سپریم کورٹ (ایس سی) کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں تمام امیدواروں کو برابر کا میدان دیا جانا چاہیے۔
نیوز 360 سے وابستہ معروف صحافی عمر انعام نے پی پی 168 میں پی ٹی آئی کے کیمپ پر پولیس چھاپے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” پی ٹی آئی امیدوار ملک نواز اعوان کی کارنر میٹنگ پر بھی پنجاب پولیس کا حملہ۔ پولیس نے نواز اعوان کے ساتھ تلخ کلامی کی اور انکے گارڈز کو گرفتار کر لیا گیا۔”
پی ٹی آئی امیدوار ملک نواز اعوان کی کارنر میٹنگ پر بھی پنجاب پولیس کا حملہ۔ نواز اعوان کے ساتھ تلخ کلامی اور انکے گارڈز کو گرفتار کر لیا گیا pic.twitter.com/g0P8Gbpvvk
— Umer Inam (@UmerInamPk) July 12, 2022
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے ایما پر پی ٹی آئی کے انتخابی دفتر پر پولیس کا دھاوا سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو واضح احکامات دیئے تھے کہ وہ ضمنی انتخابات کے دوران سرکاری مشینری کا ہرگز استعمال نہیں کرے گی ، مگر پولیس کا یہ حملہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے، عدالت کو اس پر ایکشن لیتے ہوئے ذمے داران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ تاکہ مخالفین کو اپنی انتخابی مہم میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
دوسری جانب مسلم لیگ کے امیدوار کی جانب سے ووٹ خریدنے کی خبروں پر نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر حیدر ریاض نے اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر مانیٹرنگ ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ ان رپورٹس کی فوری تحقیقات کریں کہ مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار سلمان نعیم ہر 20 ووٹوں کے بدلے ایک موٹر سائیکل کی پیشکش کر کے ووٹ خریدنے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔
ڈی ایم او ریاض نے اسسٹنٹ کمشنر اور مانیٹرنگ آفیسر کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں کہا کہ ’’سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے علم میں آیا ہے کہ ن لیگ کے ضمنی انتخاب کے امیدوار سلمان نعیم حلقہ پی پی 217 ملتان VII میں بدعنوانی میں ملوث ہیں۔‘‘









