تونسہ میں سیلاب سے متاثرہ خاتون کے جسم پر کیڑے پڑگئے

پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر بیماریاں اور وبائیں پھیلنے لگیں ہیں، ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی سیلاب متاثرہ خاتون  کے جسم پر کیڑے پڑگئے تاہم بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے خاتون جہاں فانی سے کوچ کرگئیں

پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگیں ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ کی سیلاب متاثرہ خاتون  کے جسم پر کیڑے پڑگئے تاہم بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کی  وجہ سے خاتون جہاں فانی سے کوچ کرگئیں

مائیکرو بلاگنگ پلٹ فارم ٹوئٹر پرڈاکٹرعثمان بلوچ نے ایک وڈیو شیئرکی جس میں دیکھا جاسکتا ہے اسپتال میں علاج کیلئے موجود ایک سیلاب سے متاثرہ خاتون کے چہرے پر کیڑے پڑے ہوئے ہیں جبکہ اسے طبی سہولت فراہم نہ کرنے کی وجہ خاتون جاں بحق ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں سیلاب سے 30 لاکھ بچے اور حاملہ خواتین شدید خطرے میں ہیں، یونیسیف

ڈاکٹرعثمان بلوچ نےاپنے پیغام میں بتایا کہ یہ خاتون گزشتہ 2 روزسے تونسہ شریف کے اسپتال میں بے سدھ پڑی رہی مگر کسی نے اس کے چہرے  اور جسم پر پڑے کیڑے صاف نہیں کیے اور نہ ہی اسے کوئی طبی امداد فراہم کی گئی ۔

ٹوئٹر صارف نے بتایا کہ مذکورہ خاتون کو تونسہ کے اسپتال میں کوئی طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی یہاں تک کہ ان کی مرہم پٹی بھی نہیں کی اور خاتون اس حالت میں مرگئیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو  مخاطب کرتے ہوئے مرجاؤ ہوس اقتدار کے بھوکے حکمرانو مر جاؤ۔

جبکہ دوسری جانب سیلاب کے بعد ملک بھر میں  سیلاب کے تباہ کاری کے بعد بیماریاں اور وبائیں پھیلنے لگیں ہیں۔ مضر صحت پانی پینے سے لاکھوں افراد بشمول خواتین و بچے ہیضے کے امراض کا شکار بنتے جارہے ہیں۔

ملک ببھر میں آلودہ اور مضر صحت پانی اور دیگر مسائل کے ہیضے میں مبتلا ہونے والوں میں سے اب تک 135 کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ اسپتالوں میں ادویات کی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے ۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ برائے اطفال نے اپنی ایک رپورٹ میں خدثات ظاہر کیے ہیں کہ  پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد بڑے پیمانے پر  بیماریاں اور وبائیں پھیلنے کا اندیشہ ہے جس کے باعث 30 لاکھ بچے اور حاملہ خواتین شدید خطرات کا شکار ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

مزید سیلابی ریلے کی آمد، دادو کے صفحہ ہستی کے مٹ جانے کا خدشہ

یونیسیف نے اپنی  رپورٹ میں صحت کے بحران سے حوالے سے خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں بچے اور حاملہ خواتین  کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور انہیں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے  پاکستانی بچوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں  کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے  جبکہ تقریباً  چھ لاکھ حاملہ خواتین کو طبی دیکھ بھال اور دماغی صحت کی خدمات کی اشد ضرورت ہے ۔

متعلقہ تحاریر