فرسودہ روایات میں جکڑے بستی احمد دین کے باسی سیلاب میں رہنے پر بضد

ہم بلوچ ہیں، بلوچ اپنی خواتین کو باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے، انخلا کے بجائے بھوکے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں، گاؤں کے رہائشیوں کی فرانسیسی خبر رساں ادارے گفتگو، خواتین کو بیماری پر ہنگامی حالت میں ہی باہر نکلنے کی اجازت، گاؤں کے مرد ہفتے میں ایک مرتبہ مہنگی کشتیوں پر امداد لیکر آتے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب کی نذر ہونے والے جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے چھوٹے سے  گاؤں بستی احمد دین کے باسی فرسودہ روایات کے باعث سیلابی میں رہنے پر بضد ہیں۔

بستی احمد دین کے400 رہائشیوں کو بھوک اور بیماریوں کا سامنا ہے لیکن انہوں نےامدادی رضاکاروں کی  انخلا کی  متعدد درخواست کو نظرانداز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سیکرٹری جنرل یو این  کی سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیلئے اسلام آباد آمد

سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کے 87373 کیسز رپورٹ

گاؤں کے رہائشیوں نے فرانسیسی خبررساں ادارے  کو بتایا کہ ریلیف کیمپ میں جانے کا مطلب ہے کہ  گاؤں کی خواتین اپنے خاندانوں سے باہر کے مردوں کے ساتھ گھل مل جائیں گی  اور یہ ان کی”عزت“ کو پامال کردے گا۔

بستی احمد دین کی خواتین کو کسی فیصلے کا اختیار نہیں۔17 سالہ شیریں بی بی سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ خشک زمین پرقائم امدادی کیمپ میں جانا پسند کریں گی تو انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ کرنا گاؤں کے بزرگوں پر منحصر ہے۔

صوبہ پنجاب کے علاقے روجھان میں واقع بستی احمد دین کے 90 گھروں میں سے آدھے سے زیادہ تباہ ہو گئے ہیں۔جون میں بارشوں کے آغاز پر گاؤں کے چاروں طرف کھیتوں میں کپا س کی فصل تیار ی کے مراحل میں تھی جواب سیلاب زدہ کھیتوں میں سڑ رہی ہے۔گاؤں کو شہر سے ملانے کچی سڑک 10فٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔

دیہاتیوں کے لیے خوراک اور سامان کی خریداری کے لیےگاؤں سے  نکلنے کا واحد راستہ لکڑی سے بنی ہوئی کشتیاں ہیں تاہم وہ بھی بہت مہنگی ہیں کیونکہ ان کے ملاح معمول سے کہیں زیادہ کرایہ وصول کررہے ہیں۔

بستی میں مقیم خاندانوں کو تشویشناک حد تک خوراک کی کمی کا سامنا ہے ، بارش اور سیلاب کے بعد جو بھی گندم اور اناج بچ سکا اسے جمع کرنے اور راشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امدادی سامان لے کر گاؤں کا رخ کرنے والے متعدد رضاکاروں نے بستی کے مکینوں سے بحفاظت انخلا کی کئی مرتبہ درخواست کی  ہے لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

بستی احمد دین کے رہائشی محمد امیر نے گاؤں کے غالب نسلی گروہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ”ہم بلوچ ہیں، بلوچ اپنی خواتین کو باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے،بلوچ اپنے خاندانوں کو باہر جانے کی اجازت دینے کے بجائے بھوکے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔“

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق پاکستان جیسے قدامت پسند اور پدرشاہانہ معاشرے کی یہ سخت روایات سیلاب جیسی آفت کے دوران  خواتین اور لڑکیوں کو خوراک اور طبی دیکھ بھال جیسی بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم کرسکتی ہیں۔

گاؤں کے مرد اپنے اہلخانہ کو امدادی کیمپوں میں لے جانے کےبجائے امداد اور سامان کے حصول کیلیے مہنگی کشتیوں کے ذریعے ہفتے میں ایک مرتبہ امدادی کیمپوں کا رخ کرتے ہیں۔

گاؤں کے بزرگ  تمام مرد   کہتے ہیں کہ  خواتین خراب صحت کے باعث صرف ہنگامی حالات میں ہی گاؤں چھوڑ سکتی ہیں۔گاؤ ں کلے ایک بزرگ مرید حسین نھے کہا کہ” قدرتی آفات کسی شمار میں نہیں آتیں،انہوں نے 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی  انخلا نہیں کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی ہم نے اپنا گاؤں نہیں چھوڑا تھا،ہم اپنی خواتین کو باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے، وہ ان کیمپوں میں نہیں رہ سکتیں، یہ عزت کا معاملہ ہے۔“

متعلقہ تحاریر