ماہرین تعلیم کی جی سی یو کے وائس چانسلر کے خلاف بیانات کی مذمت
ایف اے پی یو اے ایس اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وائس چانسلر نے اگر کوئی غیرقانونی اقدام اٹھایا ہے تو حکام کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب طریقہ کار اپنانا چاہیے تھا۔
فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (FAPUASA) نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی کے خلاف سیاسی شخصیات کے "بے بنیاد اور دھمکی آمیز” بیانات کی مذمت کی ہے۔
یونیورسٹی کے احاطے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے تقریب کے انعقاد ، اور چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو نشانہ بنانے پر جی سی یونیورسٹی ‘تنازع کا مرکز’ بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلامی نظریاتی کونسل نے ٹرانس جینڈر بل 2018 کو غیر اسلامی قرار دے دیا
بہت اچھا ہوا میری آڈیو لیک ہوگئی میں چاہتا ہوں سائفر بھی لیک ہوجائے، عمران خان
سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے کی جانب سے وائس چانسلر کے خلاف ایک ہنگامہ برپا ہے ، ن لیگی رہنماؤں کا کہا ہے کہ وائس چانسلر نے ایک تعلیمی ادارے کو جلسہ گاہ بنانے کی اجازت دی۔
منگل کے روز اپنے ایک بیان مں FAPUASA پنجاب کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد طاہر نے کہا کہ اگر جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اگر کوئی غیرقانونی اقدام اٹھایا ہے تو حکام کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب طریقہ کار اپنانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سوشل میڈیا پر کسی ماہر تعلیم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا مناسب نہیں ہے۔‘‘
FAPUASA نے مزید کہا کہ یونیورسٹیز کی خود مختاری کو بحال کیا جانا چاہیے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اس حوالے سے سیاسی اور سماجی مکالموں میں اس پر سوال اٹھائے گئے، جو کہ اچھا اشارہ نہیں تھا کیونکہ ہم یونیورسٹیوں میں بامعنی گفتگو کے ذریعے ہی فکری گفتگو کو فروغ دے سکتے ہیں۔
جی سی یو اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے بھی ڈاکٹر زیدی کے میں آواز بلند کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر اصغر زیدی کے خلاف بلاجواز تنقید کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ "تعلیمی عملہ اور ایسوسی ایشن آزاد اظہار کو یقینی بنانے کے لیے VC کے ساتھ کھڑی ہے۔”
اسٹاف ایسوسی ایشن نے مزید کہا ہے کہ پیر کے روز منعقد کی جانے والی تقریب کا اہتمام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) نے پنجاب حکومت کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) کے تعاون سے کیا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ کسی سیاسی رہنما نے جی سی یو میں طلباء کے سامنے اپنے سیاسی خیالات کا اظہار کیا ہو، ماضی میں بھی دیگر جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے جی سی یو میں طلباء سے اپنے سیاسی نقطہ نظر کے بارے میں خطاب کیا تھا۔
دریں اثناء آسٹریلوی ہائی کمیشن کی فرسٹ سیکرٹری کیتھرین ٹومی نے ڈاکٹر زیدی سے ملاقات کی اور آسٹریلوی یونیورسٹیوں کے ساتھ جی سی یو کے مختلف تحقیق اور تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
ڈاکٹر زیدی نے وفد کو یونیورسٹی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات اور تحقیق کے بارے میں بتایا اور آسٹریلیا کے محققین کے ساتھ مل کر ریسرچ کلچر کو مضبوط کرنے کے اپنے ارادے کے عزم کا اظہار کیا۔









