لاہور کے حیوان نما پولیس افسر کا شہری پر بدترین تشدد، کیا پولیس کلچر تبدیل ہوگا ؟
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے بادامی باغ تھانے کے ایس ایچ او آصف جبار نے شہری پر بدترین تشدد کیا اور اسے کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کیا جبکہ پولیس افسران اور وزیر داخلہ نے روایتی طور پر نوٹس لیکر مذکورہ افسر کو معطل کردیا تاہم شہریوں نے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہمارے ٹیکس سے تنخواہیں وصول کرنے والے ہی قوم پر مظالم ڈھا رہے ہیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے بادامی باغ تھانے کے ایس ایچ او آصف جبار کی شہری پر بدترین تشدد کی وڈیو وائرل ہونے پر شہریوں نے حکمرانوں سے سوال پوچھا لیا کہ پنجاب پولیس کا کلچر کب تبدیل ہوگا؟۔
لاہور کے تھانہ بادامی باغ کے ایس ایچ او آصف جبار کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں ایک شہری کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔اس دوران اسے کتے کی طرح بھونکنے کے احکامات بھی دیئے جاتے رہے ۔
یہ بھی پڑھیے
فواد چوہدری کے سیکیورٹی گارڈ کے اغوا اور تشدد میں کونسی ایجنسی ملوث ہے؟
سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہوتے ہی عوام کے ٹیکس کے اپنی تنخواہیں وصول کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو ہوش آیا اور انہوں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو معطل کردیا ۔
لاہور میں انسانیت کی تذلیل
تھانہ بادامی باغ کا ایس ایچ او شہری کو کتا بن کر بھونکنے پر مجبور کرتا رہا اور بدترین تشدد کا نشانہ بناتا رہاایس ایچ او کی معطلی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔محکمہ سے فارغ کرنا چاہیے اور سزا الگ دینی چاہیے@Lahorepoliceops@ccpolahore#FinalCall pic.twitter.com/v4txQ9upft
— Imran Bhatti (@ReporterBhatti) October 6, 2022
پنجاب پولیس نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے عوامی غیض و غصب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حیوان نما پولیس افسر کو صرف معطل کرنے پر اکتفا کیا اور کہا کہ محکمانہ کارروائی کی جارہی ہے ۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیرداخلہ بھی سیاسی معاملات سے فراغت ملی تو وہ بھی نوٹس لیتے نظرآئے اور کہا کہ قانون پولیس کو ایسا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔
حیوان نما بادامی باغ پولیس اسٹیشن کے ایس ایش او کے انسانیت سوز سلوک پر ملک کی عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ٹیکس پر پلنے والوں کا احتساب کیا جائے ۔
بابا ٹوکا نامی ٹوئٹر صارف نے واقعے پر اپنی رائے دی کہ یہ ہی وجوہات ہیں کہ لوگ قانون ہاتھ میں لیکر خود انصاف کرنے نکل پڑتے ہیں اور پھر انکو دہشت گرد کہاجاتا ہے۔
یہ ہی وجوہات ہیں کہ لوگ قانون ہاتھ میں لیکر خود انصاف کرنے نکل پڑتے ہیں
اور پھر انکو دھشتگرد کہاجاتا ھےعدالتی نظام انصاف فراہم کرے
تو کوئ بھی قانون کیخلاف نہ جائے— BABA TOKA🔪باباٹوکا🔪🖤 (@Mr__TOKA) October 6, 2022
ایک صارف نے کہا کہ یہ پولیس نہیں، جاہل ابن جاہلوں کا ٹولہ ہے۔ یہی کمینے تھے ماڈل ٹاون میں قتل عام کرنے والے ۔ یہ سب شعبدے باز ہیں ۔
پولیس نہیں۔ جاھل ابن جاھلوں کا ٹولہ ھے۔ یہی کمینے تھے ماڈل ٹاون، 25 May اور ان گنت شعبدے بازی میں ملوث۔ ایک بڑا افسر نہیں ان میں جنکے اندر ضمیر ھو
— GrandTurin (@GrandTurin) October 6, 2022









