سانگھڑ میں ہندو لڑکی کو مبینہ طور پر بندوق کی نوک پر اسلام قبول کرانیکا انکشاف
اقبال بھنبھرو نے جبری اسلام قبول کروانے کے بعد نکاح کیا، 14 ماہ تک کمرے میں قید رکھ کر ساتھیوں کے ساتھ روزانہ زیادتی کا نشانہ بنایا، اپنی مرضی سے والدین کے پاس آئی ہوں، پولیس ہراساں کررہی ہے، لڑکی کا وڈیو بیان وائرل

سندھ کے ضلع سانگھڑ میں مبینہ طور پر مذہب کی جبری تبدیلی کا ایک اور واقعہ پیش آیاہے۔ہندو لڑکی نے اقبال بھنبھرو نامی شخص پر بندوق کی نوک پراسلام قبول کروانے کا الزام عائد کردیا۔
لڑکی نے اقبال بھنبھرو سمیت 7 ملزمان پر 14 ماہ تک قید رکھ کر مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کردیا۔ مبینہ طور پر پولیس نے ملزمان کی ایما پر لڑکی کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
حیدرآباد سے ایک اور نابالغ ہندو لڑکی اغوا، سائیں سرکار کی پولیس سوتی رہ گئی
کرینہ کے اغوا کے خلاف ہندو برادری کا زرداری ہاؤس کے باہر احتجاج
اے آر وائی نیوز کے سینئر رپورٹر سنجے سادھوانی نے ایک ہندو لڑکی کی وڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ سندھی زبادن میں خود پر بیتے مظالم کی داستان بیان کررہی ہے۔
سانگھڑ : مجھے زبردستی بندوق رکھ کر مذہب تبدیل کروایا گیا پھر اقبال نامی شخص نے نکاح کیا اور چار لوگوں نے روزانہ کی بنیاد پر زنا کیا ۔ دن میں بھنبھرو نہیں چھوڑتے ۔ وہ تنگ کرتے ہیں رات میں پولیس پریشان کرتی ہے۔ زبردستی مذہب کرکے مسلمان کی جانے والی لڑکی کی دردناک داستان 😢😞 pic.twitter.com/F24qZCO2hg
— Sanjay Sadhwani (@sanjaysadhwani2) April 11, 2023
لڑکی نے بتایا کہ”مجھے زبردستی بندوق رکھ کر مذہب تبدیل کروایا گیا پھر اقبال بھنبھرونامی شخص نے نکاح کیا اور چار لوگوں نے روزانہ کی بنیاد پر زنا کیا ۔ دن میں بھنبھرو نہیں جانے دیتے اور تنگ کرتے ہیں، رات میں پولیس پریشان کرتی ہے“۔
لڑکی نے بتایا کہ”مجھ سے ایک شخص نے نکاح کیا لیکن کئی لوگ زنا کرتے رہے،اقبال بھنبھرو، کنڈو بھنبھرو،عیدل بھنبھرو،مشتاق بھنبھرو، مہران بھنبھرو،رجب بھنبھرو اور نیاز بھنبھرو، یہ سب مجھ سے زنا کرتے رہے“۔
لڑکی نے بتایا کہ اسے 14 میں ایک کمرے میں قید رکھاگیاجہاں سے موقع ملنے پر بھی باہر نکلی اور اپنی مرضی سے میکے آئی ہے، واپسی کیلیے اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی گئی۔
Another horrific case of forced conversion of a Hindu girl in Sanghar, Sindh.
The girl was made to convert on Islam on gunpoint, raped by multiple men for 14 months until she found opportunity to runaway and now police is harassing her.
Please protect her@BakhtawarBZ @AseefaBZ…
— Shama Junejo (@ShamaJunejo) April 12, 2023
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شمع جونیجو نے بھی اپنے ٹوئٹ میں اس معاملے کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیرخارجہ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری سے معاملے کانوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔









