ایم کیو ایم پی کی رعنا انصار کا سندھ کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر بننے کا امکان
پی ٹی آئی کی غیرموجودگی میں ایم کیو ایم پی کا سندھ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
9 مئی کے واقعات کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور پارٹی کے دیگر قانون سازوں کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، متحدہ قومی موومنٹ – پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے اپوزیشن رہنما کے طور پر رعنا انصار کا نام فائنل کیا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی موجودگی میں ایم کیو ایم پی کے سندھ اسمبلی میں 21 ارکان تھے، جب کہ پی ٹی آئی کے 30 ارکان اسمبلی تھے، جن میں سے کچھ پارٹی کے ابھی وفادار ہیں جب کہ دیگر نے منحرف ہو چکے ہیں۔ حالات کے پیش نظر پی ٹی آئی کے لیے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیپکو کے زیر اہتمام شہید ملازمین کے ایصال ثوات کے لیے قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کا انعقاد
پاکستان سنی تحریک سکھر کی کال پر سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
ایم کیو ایم پی کے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے کا امکان ہے، اپنے منتخب اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں لانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
فی الحال، پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ، سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور دیگر پارٹی رہنما 9 مئی کے واقعات کے بعد یا تو روپوش ہو گئے ہیں یا پارٹی سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔
ایم کیو ایم پی نے رعنا انصار کو قائد حزب اختلاف نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے انصار سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی پہلی خاتون لیڈر ہوں گی۔
مزید برآں علی خورشیدی ایم کیو ایم پی کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے طور پر کام کریں گے۔









