کوآپریٹیو مارکیٹ میں آتشزدگی کی ایف آئی آر تھانہ پریڈی میں درج
صدر کوآپریٹیو مارکیٹ شیخ فیروز کا کہنا ہے بلڈر نے ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے مارکیٹ میں آگ لگوائی ہے۔
کراچی: صدر کوآپریٹیو مارکیٹ شیخ محمد فیروز کی درخواست پر پریڈی پولیس نے کوآپریٹیو مارکیٹ میں آتشزدگی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
صدر کوآپریٹیو مارکیٹ شیخ محمد فیروز نے کہا ہے کہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے مارکیٹ میں آگ لگائی گئی۔ میں جب مارکیٹ پہنچا تو گراونڈ فلور اور پہلی منزل پر آگ لگی ہوئی تھی۔
پریڈی تھانہ میں درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق نامعلوم افراد مارکیٹ میں داخل ہوئے اور آگ لگا کر فرار ہو گئے، آتشزدگی سے پہلی منزل پر 180 اور گراونڈ فلور پر 400 دکانیں جل کر خاک ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھیے
کمالیہ میں 80 سالہ خاتون سے جنسی زیادتی کرنے والا وحشی درندہ گرفتار
ناظم جوکھیو کا قتل، پیپلزپارٹی کے بڑے خاندان کو دھمکانے لگے
ایف آئی آر کے مطابق عمارت کے چوکیدار ظاہر خان نے پونے 5 بجے شام پہلی منزل سے دھواں اٹھنے کی اطلاع دی ، بلڈر نے کے الیکٹرک کو بلایا اور چار بجے میٹروں میں کام ہوا اسکے بعد عملہ چلا گیا۔
نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر کوآپریٹیو مارکیٹ شیخ محمد فیروز نے بتایا کہ بلڈر اوپر کی دکانوں کے لیے میٹر لگا رہا تھا، اس کے لیے بلڈر نے کے الیکٹرک سے کیبل لیا تھا اور ایک ہفتے سے وہ لوگ کیبل ڈال رہے تھے۔ اتوار کے روز بھی یہ لوگ میٹر لگانے کا کام کررہے تھے۔
بلڈر نے پچھلے 25 سالوں سے بلڈنگ کو مکمل نہیں کرایا ہے ہمارا بلڈر کے ساتھ کافی عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے۔ ہم نے نیب اور اینٹی کرپشن میں درخواستیں دیں، مگر ہمیں گورنمنٹ کی جانب سے سپورٹ نہیں کی گئی۔ بلڈر جھوٹ بول کر اوپر کی دکانیں فروخت کررہا ہے ۔ بلڈر نے ایک ہفتے قبل پورے صدر میں بروشر تقسیم کیے کہ ہم مالکانہ حقوق پر دکانیں دے رہے ہیں۔
شیخ محمد فیروز کا کہنا تھا کہ جیسے ہی مجھے آگ لگنے کی اطلاع ملی ویسے ہی فوری طور پر میں نے فائر بریگیڈ اور کے ای کو اطلاع فراہم کی ، ہم چاہتے ہیں کہ تحقیق کی جائے اور حقائق کو سامنے لایا جائے، اور اگر آگ لگائی گئی ہے تو ملزمان کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دوسری جانب تھانہ پریڈی پولیس نے کوآپریٹیو مارکیٹ میں آگ لگنے کے واقعے کی ایف آئی آر کاٹنے کے بعد مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی جائے گی۔ اور سی سی ٹی وی کیمروں کو اپنی تفتیش کا حصہ بنائیں گے۔









