بلدیاتی الیکشن : پی پی رہنما کے پریزائیڈنگ افسر کو تھپڑ مارنے کا انکشاف
واقعہ 26جون کو اسلام کوٹ کے گاؤں ماجھٹی میں پیش آیا، محکمہ صحت کے ملازم مقامی وڈیرے غلام محمد جونیجو نے پریذائیڈنگ افسر کو پولیس کی موجودگی میں تھپڑ مارا، الیکشن کمیشن کا ایم این خورشید جونیجو کی دھاندلی کی وڈیو کا نوٹس

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کیخلاف دھاندلی کے الزامات لگنے کے ساتھ ساتھ وڈیو ثبوت آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسلام کوٹ کے گاؤں ماجھٹی کے پولنگ اسٹیشن میں پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما کی جانب سے پولیس کی موجودگی میں پریذائیڈنگ افسر کو تھپڑ مارنے کا انکشاف ہوا ہے، واقعے کی وڈیو سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیے
جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کو چارج شیٹ کردیا
جے یو آئی ف کا سندھ میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کروانے کا مطالبہ
سندھ میں اتوار 26جون کو منعقدہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی پر دھاندلی اور پولنگ عملے کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تاہم ضلع تھر پارکر کی تحصیل اسلام کوٹ میں پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما کی جانب سے پریذائیڈنگ افسر کوہراساں کرنے اور تھپڑ مارنے کے وڈیو ثبوت سامنے آگئے۔
پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما اور وڈیرے غلام محمد جونیجو نے پولنگ اسٹیشن میں گھس کر پولیس کی موجودگی میں پیزائیڈنگ افسر کو ڈرایا ،دھمکایا اور مغلظات بکیں، ڈرے سہمے پریذائیڈنگ افسر نےکچھ کہنا چاہا تو غلام محمد جونیجو نے اسے پولیس کے سامنے تھپڑ رسید کردیا۔
ذرائع کے مطابق مقامی وڈیرے غلام محمد جونیجو کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے اور وہ محکمہ صحت میں گریڈ ایک پر نائب قاصد بھرتی ہوا اور اب 16 گریڈ میں اکاؤنٹس افسر ہے۔
دریں اثنا الیکشن کمیشن سندھ نے لاڑکانہ سےپیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید جونیجوکی انتخابی دھاندلی سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو فوٹیجز کا نوٹس لے لیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر الیکشن کمیشن سندھ سجاد خٹک کی جانب سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر لاڑکانہ اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر لاڑکانہ کو خط لکھ کر کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیو فوٹیجز کے مطابق لاڑکانہ سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی خورشید جونیجو 26 جون کو منعقدہ بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں انتخابی دھاندلی میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ دھاندلی کا یہ افسوسناک واقعہ ضلع لاڑکانہ میں پیش آیا،یہ جرم کے مترادف ہے اور اس کے بہت سے قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ مذکورہ معاملے سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کی جائے۔









