ایم کیوایم لندن کے ارسلان خان اہلخانہ سمیت گھر میں قید ہوگئے

رینجرز نے ارسلان خان کو گزشتہ ہفتے حراست میں لینے کے بعد تنبیہ کرکے چھوڑ دیا تھا، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا انصاف ملنے تک بھوک ہڑتال کا اعلان،ارسلان خان غبن پر جیو اور اب تک نیوز سے نکالے گئے، مقتول رضاعابدی کے قریبی ساتھی تھے،ذرائع

کراچی میں ایم کیو ایم لندن سے تعلق کے الزام میں گرفتار ی کے بعد رہا ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ارسلان خان عرف اے کے 47نے احتجاجاً خود کو بیوی بچوں سمیت گھر میں قید کرلیا۔

ارسلان خان نے تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

الطاف حسین سے ملاقات حریم شاہ کی آخری  غلطی ثابت ہوگی؟

لاپتہ بلوچ طلباء کا معاملہ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمیشن تشکیل دے دیا

ارسلان خان کہتے ہیں جب تک مجھے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اور پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت سے انصاف نہیں ملتا اس وقت تک  بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا۔

ارسلان خان کو جمعہ 24 جون کو رینجرز نے کلفٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ رینجرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ محمد ارسلان خان کو ایک دہشتگرد گروپ کے ساتھ روابط کی بنیاد پر کراچی کے علاقے کلفٹن سے گرفتار کیا گیا تھا، دوران تفتیش ملزم کے دہشتگرد گروپ سے مبینہ مالی معاونت لینے کا انکشاف ہوا۔ترجمان رینجرز کے مطابق ارسلان خان کو تفتیش میں تعاون کرنے پر تنبیہ کر کے رہا کردیا گیاتھا۔

رہائی کے بعد ایک ٹوئٹ میں ارسلان خان نے خود پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ غدار نہیں ہوں میں اور نہ ہی وطن فروش ۔۔۔ میرے ماں باپ اور دادا نے دو ہجرتیں کیں۔ ایک 47 میں اور دوسری 71 میں۔ ملک بیچ کر ان ہجرتوں سے غداری کروں گا میں ؟ اسی زمین پر پیدا ہوا تھا مر کر یہیں دفن ہونا چاہتا ہوں کیونکہ یہ مٹی نہیں میرا خمیر ہے ۔

گزشتہ روز ایک اور ٹوئٹ میں ارسلان خان نے لکھا کہ  کہ اس الزام کے بعد  میرا ٹوٹا پھوٹا کیریئر ہمیشہ کیلیے برباد ہوگیا، اب مجھے کون نوکری دیگا؟ کیسے پالوں گا میں اپنے بچے؟ جیسی زندگی بچی ہے اس سے بہتر ہے کہ بچی کچھی زندگی کے ساتھ مر جاؤں،میرے بچوں کا خیال رکھنادوستو۔

ذرائع کے مطابق  خود کو انقلابی ثابت کرنے  کیلیےاوٹ پٹانگ حرکتوں کے ذریعے اپنی بیوی اور معصوم بچوں کی  جان کو خطر ےمیں  ڈالنے والے ارسلان کافی داغدار ماضی رکھتے ہیں۔ وہ ایم کیوایم لندن کے مقتول رہنما علی رضا عابدی کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے جبکہ جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی اس گینگ کا حصہ ہیں ۔

ذرائع کے مطابق ارسلان خان پیشہ ورانہ طور پر داغدارماضی کے حامل ہیں،وہ جیو نیوزمیں ہیڈ آف پروڈکشن  مینجمنٹ تھے جہاں سے انہیں غبن کے الزام میں نکالا گیا تھا بعدازاں وہ اب تک نیوز سے بدعنوانی کے الزام میں نکالے گئے تھے۔

ناقدین کاکہنا ہے کہ اگر ارسلان خان کے ساتھ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم نے انصاف نہیں کیا تو اس میں ان کے معصوم بچوں اور اہلیہ کا کیا قصور ہے، انہیں کس جرم کی سزا دے رہے ہیں؟

متعلقہ تحاریر