ظہیر احمد کی گرفتاری کا مطالبہ زور پکڑنے کا لگا ، ٹوئٹر پر بھی ٹرینڈ کرنے لگا
نئی میڈیکل رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے "اریسٹ ظہیر احمد" کو ٹوئٹر پر ٹریند بنا دیا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی ہدایت پر تشکیل دیئے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی سے لاہور جاکر شادی کرنے والی بچی دعا زہرہ کی عمر 15 سے زیادہ اور 16 سال سے کم ہے ، جس کے بعد پاکستان میں اریسٹ ظہیر احمد ٹرینڈ کررہا ہے۔
دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی کی جانب سے ان کی بیٹی کی عمر کے تعین کے لیے درخواست دائر کی تھی ، جوڈیشنل مجسٹریٹ شرقی کے حکم پر محکمہ صحت سندھ نے 10 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا جس نے کل جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
بابر غوری اس جال میں پھنس گئے جس میں عشرت العباد نہیں پھنسے تھے
دعا زہرہ کی عمر 15 سال ہے ، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں انکشاف
عوامی توجہ کے مرکز دعا زہرہ کے کیس نے اس وقت ایک اور موڑ لیا جب 10 رکنی میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی۔
محکمہ صحت سندھ نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لئے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل 10 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔ میڈیکل بورڈ کی سربراہی ڈاؤ میڈیکل کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل کررہی تھیں۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق دعا زہرہ کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے۔ 17 یا 18 سال نہیں ہے۔

3 روز میڈیکل بورڈ نے سروسز اسپتال میں دعا زہرہ کے جسم مختلف حصوں کے طبی معائنے کیے تھے۔
2 جولائی کو دعا زہرہ کے جسم کے مختلف حصوں کے ایکسرے بھی کیے گئے تھے۔
دعا زہرہ کے دانتوں ، کلائیوں اور کہنیوں کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
دانتوں کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرہ کی عمر 13 سے 15 سال کے درمیان ہے جبکہ ہڈیوں کی جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دعا زہرہ کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے۔
واضح رہےکہ کراچی سے لاپتا ہونے والی لڑکی دعا زہرہ نے متعدد مرتبہ یہ بیان دیا تھا کہ اس کی عمر 18 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کی تھی۔
واضح رہے کہ 16 اپریل کو کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے 14 سالہ دعا زہرہ لاپتا ہو گئی تھی ، جس کے والد مہدی علی کاظمی کی درخواست پر اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی نے دعا زہرہ کے اغواء کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی۔
25 اپریل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انکشاف کیا تھا کہ دعا زہرہ کا کھوج لگا لیا گیا ہے۔
26 اپریل کو پنجاب پولیس نے دعا زہرہ کو اوکاڑہ سے بازیاب کروا لیا تھا۔ جسےبعد ازاں لاہور میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں پتا چلا تھا کہ دعا زہرہ نے ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔
16 سال سے کم عمر کی لڑکی یا لڑکے کو سندھ اور پنجاب کے قانون کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں ہے۔
نئی میڈیکل رپورٹ کے آنے کے بعد والدین دعا زہرہ کے گھر آنے کے حوالے سے پرامید ہیں ، جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے "اریسٹ ظہیر احمد” کو ٹوئٹر پر ٹریند بنا دیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے نئی میڈیکل رپورٹ کے آنے کے باوجود معاملہ سلجھتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ، کیونکہ سندھ ہائی کورٹ دعا زہرہ کو مرضی کی زندگی گزارنے کی اجازت دے چکی ہے۔









