کراچی میں چند گھنٹوں کی بارش ایک خاندان کو برباد کر گئی

شادمان ٹاؤن میں تیز بارش کے بعد موٹر سائیکل سوار فیملی برساتی نالے میں گر گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو ماہ کی بچی لاپتہ ہو گئی۔

صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے قلندریہ چوک شادمان ٹاؤن میں بنے ہوئے برساتی نالے میں اتوار کی رات بارش کے دوران موٹر سائیکل سوار فیملی ڈوب گئی ، جس کے نتیجے میں بیوی اور دو ماہ کی بچی جاں بحق ہوگئی ہے۔ سماجی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے رواں سال ہونے والی مون سون بارشوں کے دوران ایسے درجنوں واقعات رونما ہوئے جس پر نہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی آنکھ کھلتی ہے اور نہ سندھ حکومت کے کان پر جوں رینگتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق موٹر سائیکل پر میاں بیوی اور بچوں سمیت چار افراد سوار تھے ، بارش کی وجہ سے موٹر سائیکل پھسل کر نالے گر گئی ، حادثے میں بیوی جاں بحق ہو گئی جبکہ دو سالہ بچی لاپتہ ہے ، ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے ایک شوہر اور ایک بچی کو بچا لیا، بچی کو ڈھونڈنے کے لیے فلاحی تنظیموں کی جانب آپریشن جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں سیلابی صورتحال، پاک بحریہ کا ریلیف آپریشن بڑے پیمانے پر جاری

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ شادمان ٹاؤن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جن میں شوہر، بیوی اور دو بچے شامل تھے موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ تیز بارش کے دوران سڑک کا ٹریک کھو جانے وجہ سے نالے میں جا گری۔

ایک گھنٹے کی ریسکیو کوششوں کے بعد خاتون کی لاش نکال لی گئی ہے جب کہ بروقت کوششوں سے ایک مرد اور ایک لڑکی کو بچا لیا گیا۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک بچے کی لاش برآمد نہیں ہوئی۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والے جماعت اسلامی (جے آئی) کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے افسوسناک واقعے کا ذمہ دار مقامی حکام کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کی غفلت نے میٹروپولیٹن شہر میں کئی قیمتیں جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ نے شہر کو ویران کر دیا گیا ہے اور انتظامیہ اس واقعے کے بعد کہیں نظر نہیں آئی۔

کراچی میں جولائی میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے ، پانی میں ڈوبنے اور دیواریں گرنے کے متعدد واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو کراچی میں گڈاپ کے علاقے میں باپ اور بیٹے سمیت 2 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

یہ واقعہ گڈاپ ندی کے قریب موٹر سائیکل پھسلنے کے بعد پیش آیا تھا ، پانی کا شدید ریلا بلوچستان سے آرہا تھا جس سے سپر ہائی وے زیر آب آگئی تھی ۔

پولیس حکام کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار تین افراد میں سے دو گڈاپ ندی میں ڈوب گئے تھے جبکہ ایک شخص کو ریسکیو کرلیا گیا تھا ، جاں بحق ہونے والوں کی شناخت غلام حسین اور لیاقت حسین کے نام سے ہوئی ہے جبکہ زندہ بچ جانے والے شخص کی شناخت رحیم الدین کے نام سے ہوئی تھی۔

شادمان ٹاؤن میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سماجی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے انتظامیہ کی ذرا سے غفلت اور لاپرواہی سے قیمتی جانوں کا ضیاع کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ شہرقائد میں قیمتوں جانوں کے ضیاع پر سوموٹو ایکشن لے اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ، کیونکہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ، جہاں سے 70 فیصد ریونیو اکٹھا کیا جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر