مہدی علی کاظمی کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے پر خوفزدہ ہوں، وکیل جبران ناصر
دعا زہرہ کے والد وکیل جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ ان کے موکل کے گھر پر موجود نہ ہونے پر ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر یوٹیوب نے ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔
دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ نام نہاد یوٹیوبر میرے موکل کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے جبران ناصر نے لکھا ہے کہ "آج مہدی کاظمی کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے پر میں خوفزدہ ہوں۔ ایک یوٹیوبر جس نے اپنا تعارف فیصل کے طور پر کرایا، آج مہدی کاظمی صاحب کے گھر گیا جو گھر پر نہیں تھے۔”
یہ بھی پڑھیے
عدالت نے دعا زہرا کی والدین، شوہر اور دیگر فریقوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی
جبران ناصر لکھتے ہیں کہ "ان کی (مہدی علی کاظمی) غیر موجودگی میں کاظمی صاحب کی چھوٹی بہن نے دروازہ کھولا ، لیکن دروازہ کھولنے سے پہلے دریافت کیا کہ آپ کون ہے اور آنے کا مقصد پوچھا۔”
Horrified at the harassment of Mehdi Kazmi’s family today. A YouTuber who introduced himself as Faisal visited Home of Mehdi Kazmi sb today who wasn’t at home. In his absence Kazmi sb’s younger sister answered the door but before opening inquired who it was & purpose of visit…
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) July 29, 2022
اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جبران ناصر نے لکھا ہے کہ "YouTuber نے کہا کہ وہ انٹرویو لینا چاہتا ہے۔ بہن نے اسے بتایا کہ مہدی صاحب اس وقت موجود نہیں ہیں اور اگر ان کا کوئی سوال ہے تو وہ وکلاء سے بات کر سکتے ہیں۔”
وکیل جبران ناصر نے آگے بڑھتے ہوئے لکھا ہے کہ "یوٹیوبر نے جانے سے انکار کر دیا اور پورے 15 منٹ تک خاتون کو بار بار دروازہ کھولنے کے لیے کہتا رہا اور ویڈیو انٹرویو پر اصرار کرتا رہا۔”
مہدی علی کاظمی کے وکیل جبران نصر نے مزید لکھا ہے کہ "بعدازاں خاتون خود اندر آگئیں کیونکہ یوٹیوبر جانے سے انکار کر رہا تھا۔”
جبران ناصر نے لکھا ہے کہ "ہم سے جو ممکن ہوا قانونی کارروائی ضرور کریں گے لیکن کچھ اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔”
انہوں نے لکھا ہے کہ "یوٹیوب سے پیسےکمانے کی خاطر اور کچھ لائیکس حاصل کرنے کی خاطر یوٹیوبر اخلاقیات بھول گئے ہیں۔”
جبران ناصر نے افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اس پورے کیس میں اب تک سب سے زیادہ غیر ذمہ دار فریق یوٹیوب رہا ہے جس نے اس کیس کے حوالے سے ہر قسم کی گندگی شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔”
وکیل جبران ناصر نے لکھا ہےکہ ” ایسا لگتا ہے کہ YouTube گھناؤنے مجرمانہ جرائم کے شکار بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کمیونٹی کے رہنما اصولوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔”









