ہاکس بے ٹرٹل بیچ پر چھ نوجوان ڈوب گئے ، 4 لاشیں نکال لی گئیں

شہری انتظامیہ نے شہریوں کے ڈوبنے کے واقعات کے بعد ساحل سمندر اور ہاکس بے پر دفعہ 144 نافذ کردی۔

کراچی: ہاکس بے ٹرٹل بیچ پر مزید چار نوجوان سمندر میں ڈوب گئے ، 24 گھنٹوں میں ڈوبنے والے افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے ، ریسکیو ٹیموں نے چار نوجوانوں کی لاشوں کو نکال لیا ہے جبکہ دو کی تلاش جاری ہے ، پولیس اور انتظامیہ نے ہاکس بے کی جانب جانے والے راستوں پر دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہاکس بے ٹرٹل بیچ پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 نوجوان ڈوب گئے ہیں ایدھی کے رضاکاروں کے مطابق چار نوجوانوں کی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ 2 کی تلاش جاری ہے ، شہریوں کے ڈوبنے کے واقعات کے بعد پولیس نے ہاکس بے اور دیگر ساحلی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی تباہ حال سڑکیں نوجوانوں کی کمر کی دشمن بن گئیں

لاڑکانہ کی فنکار بہنوں کا سندھ حکومت کے خلاف انوکھا احتجاج

سول اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس افراد کی لاشوں کو لایا گیا جن سے متعلق ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ متعلقہ نوجوان سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز ڈوبنے والے ایک نوجوان کی لاش کل شام کو ہی نکال لی گئی تھی ، جبکہ ایک لاش آج صبح نکالی گئی تھی ، دونوں کی شناخت محسن اور ممنون کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ڈوبنے والے دونوں نوجوانوں کی عمریں 15 اور 16 سال تھیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے آج ڈوبنے والے دو نوجوانوں کی لاشوں کو نکال لیا گیا ہے، دونوں نوجوان لیاقت آباد کے رہائشی تھے ، لاشوں کی شناخت فہد اور شارم کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ نہال اور عبید کی تلاش جاری ہے۔

پولیس کی جانب سے ہاس بے کو جانے والے تمام تر راستوں کو سیل کردیا گیا ہے ، جس کی وجہ سےماڑی پور روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، پکنک کے آنے والےشہریوں کی بڑی تعداد ٹریفک میں پھنس گئی ہے ، کئی جگہوں پر شہریوں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی ہوئے ہیں ، تاکہ پولیس کسی کو ہاکس بے کی جانب جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سمندر اس وقت اپنی  پیک پر ہے اور شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ سمندر میں جانے کی جسارت نہ کریں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سمندر میں نہانے پر 144 دفعہ کا نفاذ کردیا گیا تھا ، اس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ساحل سمندر پر پہنچ گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر