بلال احمد نے جھوٹے الزامات لگاکر جبران ناصر پر پریس کلب کے دروازے بند کرا دیے
جبران ناصر کا کہنا ہے کہ آج تک کسی صحافی یا رپورٹر کو نہیں دھمکایا ہے ، اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔
کراچی: کراچی پریس کلب (کے پی سی) کی مجلس عاملہ نے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے اور مقدمات درج کرانے کے جھوٹے الزامات پر معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کے کراچی پریس کلب میں داخلے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
کے پی سی کی باڈی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ جبران ناصر کے جانب سے صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور دباؤ ڈالنے کا عمل قابل مذمت ہے، مجلس عاملہ نے الزام لگایا ہے کہ جبران ناصر مبینہ طور پر میڈیا ورکرز کو عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مہدی علی کاظمی کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے پر خوفزدہ ہوں، وکیل جبران ناصر
عدالت نے دعا زہرا کی والدین، شوہر اور دیگر فریقوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی
پریس کلب کا کہنا تھا کہ ناصر اس سے قبل بھی متعدد بار صحافیوں کے خلاف دھمکی آمیز رویے کا مظاہرہ کرچکا ہیں اور بعدازاں صحافیوں کی جانب سے احتجاج کے بعد اپنے رویے پر معافی بھی مانگ چکے ہیں۔
کراچی پریس کلب نے اپنی پریس ریلیز میں تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبران ناصر صحافیوں کو عدالتی کارروائی کی کوریج سے روکنے کی کوشش میں ملوث ہیں اور خصوصی طور پر دعا زہرہ کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے درخواست کی تھی کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیں۔
علاوہ ازیں جبران ناصر نے سینئر صحافی اور کے پی سی لیگل کمیٹی کے سیکرٹری بلال احمد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، کراچی پریس کلب کی مجلس عاملہ نے کورٹ رپورٹرز خصوصاً بلال احمد کے خلاف انتقامی کارروائی کی شدید مذمت کرتی ہے اور جبران ناصر کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ کیس میں فریق بننے کا اعلان کرتی ہے۔
کراچی پریس کلب کی جانب سے اپنے اوپر پابندی لگائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "حقائق: 1: آج تک کسی صحافی کو کسی کیس میں نہیں دھمکایا ہاں برادرانہ مشورہ ضرور دیا۔ 2: جج صاحب نے خود کمرہ عدالت چائلڈ میرج رولز 2016 کے تحت خالی کروایا تھا۔”
حقائق: 1) آج تک کسی صحافی کو کسی کیس میں نہیں دھمکایا ہاں برادرانہ مشورہ ضرور دیا
(2 جج صاحب نے خود کمرہ عدالت چائلڈ میرج رولز 2016 کے تحت خالی کروایا
(3 میں نے اس کیس میں کسی صحافی کے خلاف عدالت میں کوئی پٹیشن داخل نہیں کی۔ پریس ریلیز لکھنے والے بہتان بازی پر خود شرمندہ ہونگے۔ pic.twitter.com/XebuvoU3G3— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) July 31, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "3: میں نے اس کیس میں کسی صحافی کے خلاف عدالت میں کوئی پٹیشن داخل نہیں کی۔ پریس ریلیز لکھنے والے بہتان بازی پر خود شرمندہ ہونگے۔”
وکیل جبران ناصر نے اپنے دفاع میں مزید لکھا ہے کہ ” نا یہ مجھ پر لگایا گیا پہلا جھوٹا الزام ہے اور نا آخری ہو گا، اگر کچھ تبدیل ہوگا تو وہ یہ کہ اس سے میرا عزم مزید پختہ اور میری خود اعتمادی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔”
واضح رہے کہ اس سے قبل جبران ناصر نے نام نہاد یوٹیوبرز کی جانب سے دعا زہرہ کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔









