دعا زہرہ کیس: مقامی عدالت نے یوٹیوبرز کو پروپیگنڈا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے دعا زہرہ کے والد کی درخواست پر علی حسن اقبال جعفری ، بلال احمد اور زنیرہ ماہم سمیت کئی یوٹیوبرز کو مہدی علی کاظمی اور ان کی فیملی سے متعلق ویڈیوز شیئر کرنے سے روک دیا۔

کراچی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے دعا زہرہ کے والد مہدی علی کاظمی کی درخواست پر زنیرہ ماہم ، بلال احمد ، علی جعفری سمیت تمام یوٹیوبرز کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیاز پر شیئر کرنے سے روک دیا ہے۔

سندھ کی معزز عدالت میں جن یوٹیوبرز اور دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے ان میں ظہیر احمد ، علی حسن اقبال جعفری (ایڈووکیٹ) ، بلال احمد ، میاں آصف جاوید ، زنیرہ ماہم ، اللہ دتا ملک ، فیصل اسرار خان سوری اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لاڑکانہ کی فنکار بہنوں کا سندھ حکومت کے خلاف انوکھا احتجاج

مہدی علی کاظمی کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے پر خوفزدہ ہوں، وکیل جبران ناصر

مہدی علی کاظمی کی جانب سے ایڈووکیٹ احمد علی حسین اور ایڈووکیٹ جاوید انور چیمہ نے درخواست جمع کرائی ہے۔

درخواست میں فوری منظوری کی استدعا کی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے سماعت اگلی سماعت تک ملتوی کردی ہے۔

اگلی سماعت سات دنوں کے بعد رکھی گئی ہے۔

مدعی مقدمہ مہدی علی کاظمی کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ میری بیٹی جس کی عمر تقریباً 14 برس ہے ، اس کے اغواء کو مقدمہ رواں سال درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ رولز، 2016 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متاثرہ کے اغوا اور بچپن کی شادی کی دفعات درج کی گئی ہیں۔

دوسری جانب آج کراچی کی مقامی عدالت نے دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد اور اسکے بھائی شبیر کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 17 اگست تک ضمانت میں توسیع کر دی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں دعا زہرہ کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد اور شبیر احمد کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ دعا زہرہ کیس کے مقدمے کا چالان تاحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکا. عدالت نے چھ اگست تک چالان جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے دونوں ملزمان کی ضمانت میں 17 اگست تک توسیع کر دی۔

متعلقہ تحاریر