صحافی کا جبران ناصر پر ‘غیر ملکی اور اسلام مخالف ایجنڈا’ رکھنے کا الزام

ایک صحافی اور یوٹیوبر بلال احمد نے اپنی ایک ویڈیو میں جبران ناصر پر 'غیر ملکی اور اسلام مخالف ایجنڈا' رکھنے کا الزام لگایا۔

صحافی اور یوٹیوبر بلال احمد نے اپنی ایک ویڈیو میں وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر پر ‘غیر ملکی اور اسلام مخالف ایجنڈا’ رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

یوٹیوبر بلال احمد نے جبران ناصر پر غیر ملکی لابیز اور احمدی فرقہ سے روابط رکھنے کے سنگین الزامات لگائے ہیں ،  جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرہ کیس: مقامی عدالت نے یوٹیوبرز کو پروپیگنڈا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا

بلال احمد نے جھوٹے الزامات لگاکر جبران ناصر پر پریس کلب کے دروازے بند کرا دیے

انہوں نے اپنی ویڈیو میں مزید کہا ہے کہ جلد حقائق سامنے آئیں گے اور لوگ اس پر بات کرنا شروع کر دیں گے۔

صحافی نے یہ بھی الزام لگایا کہ جبران ناصر نے ایک مسلمان لڑکی کے مذہب کو عیسائیت میں تبدیل کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بلال احمد کی جانب سے یہ ویڈیو مبینہ طور پر کراچی پریس کلب کی چھت پر ریکارڈ کی تھی۔ بلال احمد کراچی پریس کلب (کے پی سی) کی قانونی ٹیم کے سیکریٹری بھی ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی پریس کلب (کے پی سی) نے وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کی جانب سے صحافیوں کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائی کرنے ، صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرانے اور دعا زہرہ کیس میں یک طرفہ رپورٹنگ کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات پر ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔ .

بلال احمد کے الزامات کے بعد وکیل جبران ناصر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ ویڈیو ایک صحافی نے کراچی پریس کلب کی چھت سے بنائی ہے ، جو کے پی سی کی قانونی کمیٹی کے سیکرٹری ہیں ، اگر یہ جھوٹے بیانات پریس کلب کی حقیقت ہیں تو میں اس عمارت کے اندر قدم بھی نہیں رکھنا چاہوں گا اس سے پہلے کہ کوئی مجھ پر پابندی لگائے۔”

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "یہ افسوسناک ہے کہ پریس کلب اپنی 75 سالہ تاریخی حیثیت سے محروم ہوگیا۔”

وکیل جبران ناصر نے اپنی سپورٹ پر ایس ایچ سی بی اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ایک اپنے وکیل ساتھی کی حمایت کی اور بطور وکیل میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران میرے خلاف دھمکیوں اور نفرت انگیز تقاریر کی مذمت کی۔”

کچھ صحافتی حلقوں نے اس ویڈیو کی ریکارڈنگ پر خدشات کا اظہار کیا جس سے شہریوں میں مذہبی منافرت کی لہر پھیل سکتی ہے۔

غیرجانب دار صحافتی حلقوں نے کے پی سی کے عہدیداروں سے بلال احمد کی ویڈیو کا نوٹس لینے اور پریس کلب کے احاطے میں متنازعہ مواد کی فلم بندی کی حوصلہ شکنی کرنے کی درخواست کی ہے۔

متعلقہ تحاریر