مغویہ بچی کیس، ملزمان کی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا

دعا زہرہ کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد کی مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کردی، ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد کی مقدمہ ختم کرنے اور مدعی مقدمہ کی جانب سے تفتیشی افسر تبدیل کرنے سے متعلق درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرہ کے کیس کی سماعت ہوئی۔

کیس کی مرکزی ملزم ظہیر احمد کی جانب سے مقدمہ ختم کرنے کی درخواست دی گئی تھی جبکہ مدعی مقدمہ یعنی دعا زہرہ کے والد کی جانب سے تفتیشی افسر تبدیل کرنے کی درخواست دی گئی تھی۔ ظہیر احمد کی پراسیکیویشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دی۔

یہ بھی پڑھیے

عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کالعدم، بشریٰ اقبال کا اظہار تشکر

شمالی سندھ میں کاروکاری کے واقعات میں اضافہ، رواں سال 123 افراد قتل

دوران سماعت وکیل ظہیر احمد کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل سندھ جان بوجھ کر توہین عدالت کر رہے ہیں،

دوران سماعت ظہیر احمد کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ جسٹس محمد جنید غفار کا 6 جون کا فیصلہ پڑھ لیا جائے۔

اس پر سندھ ہائی کورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ فیض ایچ شاہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔

وکیل ظہیر احمد کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کی عزت اور وقار کا مسلہ ہے، پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، ایڈووکیٹ جنرل کا بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

ظہیر احمد کے وکیل کا کہنا تھا نکاح پنجاب میں ہوا، یہاں قانون لاگو نہیں ہوتا، سندھ چائلڈ میرج قانون اس کیس پر لاگو نہیں ہوتا۔

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نے کیس میں کم عمری میں شادی کی دفعات لگا دی ہیں۔

ظہیر احمد کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں پراسکیوٹر جنرل سندھ، تفتیشی افسر سعید رند کو فریق بنایا گیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ کیس کا چالان جمع ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جائے۔

اس پر ظہیر احمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ کے وکیل کو اس کیس میں حقائق ہی معلوم نہیں، چالان جمع ہوا مگر اسکروٹنی مراحل میں ہے۔

دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل کا کہنا تھا ہم اس کیس میں تفتیشی افسر تبدیل کروانا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ظہیر کی مبینہ مغویہ سے ملاقات روکی جائے۔

کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مدعی مقدمہ کے وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا ہم اس کیس میں تفتیشی افسر تحفظات کا اظہار کیا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کو ڈی آئی جی لیول کا کوئی افسر سپروائز کرے ۔

جبران ناصر کا کہنا تھا عدالت نے سوال کیا کہ چالان جمع ہو گیا ہے ، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ چالان اسکروٹنی کے لیے رکھا گیا ہے ، جس پر میں چالان کی سرٹیفائیڈ کاپی عدالت میں پیش کی۔

جبران ناصر کا کہنا تھا میں عدالت کو بتایا کہ جناب چالان جوڈیشل ورڈکٹ پر ہے ، اور عدالت نے فیصلہ کرنا ہے ، جس پر عدالت نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے کہا ہے جو بھی ریلیف آپ لوگوں کو چاہیے ، آپ لوگ ٹرائل کورٹ سے رجوع کریں.

متعلقہ تحاریر