خاتون رپورٹر فاطمہ اختر کو سیلاب زدہ علاقوں کی کوریج کے دوران ہراسانی کا سامنا
فاطمہ اختر نے فیس بک پر اپنے وڈیو پیغام میں ہونے والی ہراسانی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہائیکورٹ کی نمبر پلٹ لگی گاڑی میں موجود شخص انہیں نازیبا اشارے کر رہا تھا تاہم منع کرنے پر اس نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کرلیا

خاتون رپورٹر فاطمہ اخترکوسیلاب زدہ علاقوں کی کوریج میں ہراسانی کا سامناکرنا پڑگیا۔ سوشل میڈیا پرخاتون رپورٹرنے بتایا کہ وہ سچل گوٹھ سیلابی صورتحال پر رپورٹنگ کی جارہی تھی کہ ساتھ سے گزرنے والی کار میں موجود ایک شخص نے نا زیبا اشارہ کیا ۔
خاتون رپورٹر فاطمہ اختر نے فیس بک پر ایک وڈیو کے ذریعے اپنے ساتھ پیش آئے ہراسانی کا واقعہ شیئرکیا۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ سچل گوٹھ میں سیلابی صورتحال پر رپورٹنگ کرنے جا رہی تھی کہ ایک کار سے ایک شخص نے نا زیبا اشارہ کیا ۔
یہ بھی پڑھیے
یوم آزادی پر اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین سے ہراسانی کا واقعہ
خاتون رپورٹرنے بتایا کہ مدراس چورنگی کے قریب یو ٹرن پر کارمیں موجود شخص نے انتہائی نازیبا اشارہ کیا جس پر میں نے انہیں ہاتھ بڑھا کر کہا کہ آپ آگے نکلنے کا اشارہ کیا تو اس شخص نے آگے جاکر اپنی کار ہماری گاڑی کے آگے لگا دی اور ہمیں روک دیا۔
فاطمہ اختر نے بتایا کہ مذکورہ شخص کی گاڑی پر ہائیکورٹ کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی ہے ۔ مذکورہ شخص نے گاڑی سے اترنے کے بعد ہمیں دھمکیاں دی اور کہا جس کو بلانا ہے بلا لیں۔
خاتون رپورٹر نے بتایا کہ ہم نے پولیس ایمر جنسی نمبر 15 پر کال کرکے اس حوالے سے انہیں آگاہ کردیا تاہم ابھی تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔
خاتون رپورٹر نے کہا کہ کراچی میں موجود غیر مقامی افراد شہر قائد کے رہائشیوں کے ساتھ نا زیبا سلوک میں ملوث ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز نے ان جیسے لوگوں سے پہلو تہی کر رکھی ہے۔









