سندھ میں سیلاب متاثرین کو سہولیات کی عدم فراہمی کیس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
سندھ ہائیکورٹ میں سیلاب متاثرین کو سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت سے سندھ رپورٹ طلب کی جائیں کہ ٹینٹ سمیت دیگر امدادی سامان کہاں ہیں؟

سندھ ہائیکورٹ میں سیلاب متاثرین کو سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت سے سندھ رپورٹ طلب کی جائیں کے وہ تمام ٹینٹ اور دیگر امدادی چیزیں کہاں ہیں؟۔
سندھ ہائیکورٹ میں صوبے میں سیلاب متاثرین کو سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ درخواست گزار نے حکومت سندھ پی ڈی ایم اے او دیگر کو فریق بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کی شدت برقرار، نئے سیلاب کی پیش گوئی
درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے پہلے ہی کہا گیا تھا کہ رواں سال زائد بارش ہوں گی تاہم اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ۔
درخواست میں کہا گیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے جو بتائی جارہی ہیں وہ سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے پہلے ہی امدادی چیزوں کا اعدادوشمار وشمار جاری کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جس میں ٹینٹ، مچھر دانی، جانوروں کیلئے مچھر دانی اور دیگر چیزوں کے اعداد و شمار کا بتایا گیا۔ حکومت سے سندھ رپورٹ طلب کی جائیں کے وہ تمام ٹینٹ اور دیگر امدادی چیزیں کہاں ہیں؟۔
عدالت نے سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ عدالت آج ہی فیصلہ آج ہی سنائے گی ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل متاثرین سیلاب و بارش زدگان کی بحالی کیلئے جمعیت علمائے اسلام (ف)سکھر نے بھی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے ۔
جے یو آئی ف کی درخواست میں چیف منسٹر سندھ، بلدیات، صحت، وزرائے خزانہ، متعلقہ سیکریٹریز، چیف انجینئرز، کمشنرز اور ڈی سیز اور پولیس افسران کو فریق بنایا گیا ۔
درخواست گزارمولانا محمد صالح نے درخواست میں کہا ہے کہ سندھ حکومت، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور حکومت امدادی کی تقسیم مناسب طریقے سے نہیں کررہی ہے۔









