انٹر بینک میں ڈالر کی ڈیمانڈ میں اضافے سے روپے کی قدر میں مزید گراوٹ
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ بڑھنے سے امریکی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا اورایک ڈالر 225 روپے 42 پیسے کا ہوگیا، اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ میں عدم دلچسپی کے سبب ڈالر کی قیمت مستحکم رہی

کاروباری ہفتے کے چوتھے روزانٹر بینک میں ڈالر کی ڈیمانڈ میں اضافے کے باعث پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ دیکھی گئی تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت مستحکم رہی ۔
کاروباری ہفتے کے چوتھے روزانٹربینک میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ بڑھنے سے امریکی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہوا اور اس دوران ایک ڈالر 226 روپے کی سطح پر پہنچ گیا ۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز حکومت کے تین میں ملکی اور غیرملکی قرضوں میں 6799 ارب روپے کا اضافہ
اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ڈالر 2 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد ایک ڈالر 225 روپے 42 پیسے کا ہو گیا ۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/2Du2tsBV8B pic.twitter.com/qe8drDCtN1
— SBP (@StateBank_Pak) September 8, 2022
اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ میں عدم دلچسپی کے سبب امریکی کرنسی کی قیمت مستحکم رہی ۔ فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ڈالر 232 روپے میں فروخت ہوا ۔
معاشی امور کے ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی مضبوطی سمیت متعدد عوامل ہیں۔
معیشت کے اعداد و شمار پر نظر رکھنے والوں نے بتایا کہ درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی مانگ میں اضافے نے روپے کی کمزوری میں اضافہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیلاب کی تباہ کاریاں: کیا حکومت اپنے معاشی اہداف حاصل کرپائے گی؟
ماہرین نے بتایاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور زرمبادلہ کے بحران سے پاکستان کی معیشت پہلے ہی چیلنجز سے دوچار ہے تاہم امریکا کی شرح سود کے پالیسی کے منفی اثرات پاکستانی روپیہ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔









