سیلاب متاثرین گھروں کی مرمت کیلیے کم سن بیٹیوں کی شادیاں کرنے پر مجبور
دادو کی تحصیل میہڑ میں سیلاب سے متاثرہ باپ نے اپنے تباہ حال گھر کی مرمت کیلیے 50 ہزار روپے کے عوض اپنی 12 سالہ بیٹی کا رشتہ طے کردیا۔

سندھ کے سیلاب متاثرین اپنے تباہ حال گھروں کی مرمت کیلیے پیسوں کے عوض کم سن بیٹیوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہوگئے۔
دادو کی تحصیل میہڑ میں سیلاب سے متاثرہ باپ نے اپنے تباہ حال گھر کی مرمت کیلیے 50 ہزار روپے کے عوض اپنی 12 سالہ بیٹی کا رشتہ طے کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
سیلاب متاثرہ کسان قرض کے باعث دہرے عذاب میں مبتلا، بینک ہراساں کرنے لگے
روہڑی کا مختارکار راتوں رات سیلاب متاثرین کا امدادی سامان ہڑپ کرگیا
50سالہ قادر بخش(فرضی نام ) نے برطانوی نشریاتی ادارے سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”کیوں، کیا سیلاب میں لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی؟ اس سیلاب کی مصیبت میں ہمیں بیٹی کے رشتے کے عوض اگر 50 ہزار روپے مل رہے ہیں تو تم میڈیا والوں کو کیا پریشانی ہے؟“
بی بی سی کے مطابق قادر بخش جب یہ بات کر رہے تھے تو اُن کی آواز میں غصہ واضح تھا کیونکہ ان کے مطابق یہ بات کر کے ہم اُن کے ذاتی معاملات میں مداخلت کر رہے تھے۔وہ اپنی بیٹی کی شادی کے موضوع پر ہم سے بات کرنے کے لیے پہلے ہی بمشکل آمادہ ہوئے تھے۔
انہوں نےاسی غصیلے لہجے میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ”ہمارا گھر، سامان سب پانی میں بہہ گیا ہے۔ کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا ،حکومت بھی نہیں کر رہی، ایک کلو آٹا تک نہیں ملا۔ پانی اُترے گا اور ہم واپس گاؤں جائیں گے تو وہاں خالی ہاتھ کیا کریں گے؟ یہ پیسے ہمارے گھر بنانے کے کام آئیں گے۔“
بی بی سی کے مطابق 50 سالہ قادر بخش کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،ان کے مطابق ان کی بڑی بیٹی کی عمر لگ بھگ بارہ سال جبکہ چھوٹی کی تقریباً دس سال ہے۔
قادر بخش نے بتایا کہ انہوں نے سیلاب میں بے گھر ہونے کے بعد اپنی 12 سالہ بیٹی کا رشتہ اپنے رشتے داروں میں طے کر دیا ہے۔ قادر بخش نے یہ رشتہ 50 ہزارکے عوض طے کیا ہے جس میں سے انہیں 25 ہزار رخصتی سے پہلے مل چکے ہیں جبکہ بقیہ رقم شادی کے دن دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔قادر کے مطابق ان کی بیٹی کی شادی ایک ماہ بعد ہونا قرار پائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دوسری بیٹی کے لیے بھی رشتہ دیکھ رہے ہیں تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی اور یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔
جب قادر بخش کو بتایا گیا کہ 12 برس کی بچی کی شادی قانوناً جرم ہے تو وہ بھڑک اٹھے اور اُن کا کہنا تھا کہ”پہلے حکومت سے بولو کہ ہماری مدد کرے، پھر ہم کو سمجھانا کہ کیا غلط ہے اور کیا ٹھیک ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ”ہم 6 افراد کھانا کہاں سے کھائیں گے، میری بیوی بیمار ہے اس کے لیے دوا کا بندوبست کون کرے گا؟پانی پتا نہیں کب اترے گا اور ہم کب واپس جائیں گے، تب تک ہمارا گزارا کیسے ہو گا؟ کون ہمارے مسئلے حل کرے گا؟“









