سیلاب سے نمٹنے میں ناکامی، سپریم کورٹ میں سندھ حکومت کیخلاف درخواست

ایڈووکیٹ دلبر خان لغاری نے بدھ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی، سندھ حکومت سے ریسکیو، ریلیف اور پانی کی نکاسی کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت

حالیہ سیلاب کے دوران تباہی سے نمٹنے میں سندھ حکومت کی مبینہ ناکامی کاجائزہ لینے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

ایڈووکیٹ دلبر خان لغاری نے بدھ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت  کو صوبے کے متاثرہ علاقوں سے ریسکیو، ریلیف کے کاموں اور سیلابی پانی کی نکاسی کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت  کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدگان کو صحت کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی، ڈبلیو ایچ او

امدادی سامان کی تقسیم کی تقریب بدنظمی، متاثرین امدادی سامان پر ٹوٹ پڑے

 

سپریم کورٹ سےاستدعا کی گئی ہے کہ  صوبائی حکومت سے فرنشڈ پلان پر عملدرآمد کے لیے جاری کردہ ہدایات کے ساتھ ساتھ امدادی کاموں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی  جائیں۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو خوراک، کپڑے، ادویہ، خیمے اور مالی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہی اور عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر اٹھائے تاکہ بحران زدہ لوگوں کو نکالا جائے جنہیں صرف اس وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست گزار نے سیلاب کی تباہی کو روکنے میں ناکام رہنے والے افراد کیخلاف بھی قانونی کارروائی مطالبہ کیا۔انہوں نے استدعا کی کہ مون سون کی شدید بارشوں کے باعث سانگھڑ، حیدرآباد، میرپورخاص، بینظیر آباد، سکھر، لاڑکانہ، بدین اور سندھ کے دیگر علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی ایجنسیوں نے مون سون سے پہلے ہی شدید بارشوں کے بارے میں خبردار کر دیا تھا۔

درخواست گزار نے 2010 کے سیلاب کا حوالہ دیا ، جس کے بعد سپریم کورٹ نے مرحوم فخرالدین جی ابراہیم اور جان محمد خان جمالی کی طرف سے سیلابی پانی کےبہاؤ کو غیرقانونی طور پر موڑنے کے حوالے سے بھیجے گئے خط پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا۔ 2011 میں سامنے آنے والے   تفصیلی فیصلے میں  عدالت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی بحالی، جان و مال کے تحفظ، آزادی اور املاک کے ساتھ ساتھ معاوضے کے لیے حکومت کو متعدد ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کئی علاقوں میں پانی کے قدرتی بہاؤ پر  غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے سیلاب اور بارش کے پانی کو نہیں نکالا جا سکتا، لیکن ان غیرقانونی تعمیرات اورانہیں تعمیر کرنے والوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2010 سے لے کر اب تک دریا کے راستوں کی بحالی، نکاسی آب یا پشتوں     کی پختگی کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا، انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی انتظامیہ نے زمین پر کوئی کام کیے بغیر اربوں لوٹنے کے لیے اپنے پسندیدہ ایجنٹوں کو ٹینڈرز دیے۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں حکمران جماعت گزشتہ 15 سال سے اقتدار پر قابض ہے لیکن سیلابی پانی کو درست طریقے سے نکالنے کے لیے کبھی کوئی تعمیری کام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے کھلے عام شکایت کی کہ انہیں امدادی سامان فراہم کرنے کے لیے وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔

متعلقہ تحاریر