محکمہ صحت سندھ کی مجرمانہ غفلت سے کروڑوں روپے کی ایمبولینسز کباڑ بن گئیں

سکھر اوراطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی ایمبولینسز کھڑی کھڑی ناکارہ ہوگئیں جبکہ محکمہ صحت کے حکام  پیٹرول اور ڈیزل کی مد میں لاکھوں روپے وصول کررہے ہیں

محکمہ صحت سندھ اور سول اسپتال سکھر انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث مریضوں کو  فوری طبی امداد  کی فراہمی کیلئے منگوائی جانیوالی  ایمبولینسزکھڑے کھڑے  کباڑ بن گئیں۔

محکمہ صحت سندھ اور سکھر انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سندھ حکومت کے تعاون سے مریضوں کے لیے خریدی جانے والے کروڑوں روپے کی ایمبولینسز ناکارہ ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے

حیدرآباد سے ایک اور نابالغ ہندو لڑکی اغوا، سائیں سرکار کی پولیس سوتی رہ گئی

حکومت سندھ نے سکھر اور گرد نواح کے مریضوں کو طبی سہولیات فراہمی کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرکے سول اسپتال کیلئے ایمبولینسز اور گاڑیاں منگوائیں تھیں جو کھڑے کھڑے ناکارہ ہوگئیں۔

محکمہ صحت اور سول اسپتال سکھر کے ملازمین نے ایمبولینسز اور دیگر گاڑیوں کے پرجہ جات نکال کر فروخت کردیئے جبکہ کھڑی گاڑیوں کے پیٹرول کی مد میں روزانہ پیٹرول اور ڈیزل کے بل وصول کیے جارہے ہیں۔

شہری و سماجی تنظیموں کی جانب سے مسلسل احتجاج کے باوجود محکمہ صحت سکھر اور سکھر سول اسپتال انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا  مطالبہ کیا ۔

سکھر کے شہریوں اور سماجی تنظیموں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر صحت، سیکریٹری صحت سمیت دیگر بالا حکام سے نوٹس لیکر مریضوں کوہر ممکن طبی سہولیات فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر