سندھ ہائیکورٹ نے مہدی کاظمی کو بیٹی سے ملاقات کی اجازت دے دی

کراچی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی کم عمر لڑکی دعا زہرا کاظمی کے ایم ایل او سے متعلق  کیس کی سماعت  سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔  دوران سماعت عدالت کم عمر لڑکی  دعا زہرا کاظمی کے والدین کو  بچی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے ۔ مہدی کاظمی اور ان کی اہلیہ دن 12 بجے اپنی بیٹی سے ملاقات کریں گے

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی کم عمر لڑکی  دعا زہرا کاظمی کے والدین کو بچی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ مہدی کاظمی اوران کی اہلیہ دن 12 بجے اپنی بیٹی سے ملاقات کریں گے ۔

کراچی سے مبینہ طور پراغوا ہونے والی کم عمرلڑکی دعا زہراکاظمی کے ایم ایل او سے متعلق  کیس کی سماعت  سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے مدعی  مقدمہ کو اپنی بیٹی سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرا کیس: پولیس کی چارج شیٹ میں ظہیر احمد پر ریپ کے الزامات عائد

دوران سماعت ہائی کورٹ کے جج  صلاح الدین پنہور  نے دعا کے والد مہدی کاظمی سے  پوچھا کہ آپ کیوں  بچی  کا میڈیکل کروانا چاہتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ   دیکھنا چاہتے ہیں بچی کو  زیادتی یا تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا ۔

مہدی کاظمی نے عدالت کے روبرو کہا کہ دعا 6 ماہ سے  بچی مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہے جس پر جج  صلاح الدین پنہور  نے کہا کہ آپ کو بچی کا نفسیاتی معائنہ کروانا چاہیے۔ ماہر نفسیات بچی کو بہتر طریقے سے  ہینڈل کر پائے گا ۔

جج صلاح الدین پنہور نے مہدی کاظمی کو ان کی بیٹی دعا زہرا سے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے کہا  کہ پہلے اپ اپنی بیٹی سے ملاقات کریں پھر اس کے بعد ایم ایل او  کے معاملات دیکھیں جائے  گے ۔

ملزمان کے وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی دعا زہرا نے والدین کے ہاتھوں اپنے قتل کے خدشات ظاہر کیے ہیں اس لیے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے جس پر جج نے جز باتی ریمارکس دیئے ۔

جج نے کہا کہ  ماضی میں عزت کے نام پر قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں تاہم  آپ آج کے معاملات کو دیکھیں۔ مہدی کاظمی گزشتہ 6 ماہ سے اپنی بیٹی سے نہیں ملے ہیں اس لیے ملاقات ضروری ہے ۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعا کاظمی کے والد مہدی کاظمی  کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر کا کہنا تھا کہ عدالت نے  بچی سے ملاقات کی اجازت  دے دی ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ملزمان کے وکیل نے  پوری کوشش کہ مہدی کاظمی کی ان کی بیٹی سے ملاقات نہ ہوپائے تاہم عدالت نے ان کی استدعا مسترد کردی ہے ۔

جبران ناصر نے کہا کہ مبینہ اغوا لڑکی  کے ایم ایل او کے حوالے سے کہا کہ  عدالت سے استدعا کی گئی ہے بچی کا جسمانی اور نفسیاتی   میڈیکل چیک اپ  کروایا جائے  جس سے  ضروری چیزیں سامنے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہدی کاظمی اور انکے اہلخانہ کا پہلا  مقصد  اپنی بیٹی کی سلامتی ہے نہ کہ ملزمان کو سزا دلانا  جبکہ ملزمان کے وکیل کا صرف اور صرف مقصد اپنے موکل کی رہائی اور کیس کا خاتمہ ہے ۔

متعلقہ تحاریر