کیا بیٹے اس لیے ہوتے ہیں کہ جوانی میں مار دیے جائیں ،پی ٹی آئی کارکن کی والدہ کی دہائی

پی ٹی آئی کے مقتول ورکر کی والدہ کا کہنا ہے سندھ حکومت سے ہماری درخواست ہے کہ وہ تحقیقات کرے کہ قتل میں کون کون ملوث ہے۔

کراچی میں قتل ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن طحہٰ شیخ کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی ، وہ لوگوں کی خدمت لگا رہتا تھا ، میں نے اپنا جوان بیٹا کھو دیا ہے۔

کراچی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے پریس کانفرنس کرتے ہوئے طحہٰ شیخ کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرا 32 سال کا بیٹا مجھ سے چھن گیا ہے ، وہ ہمیشہ خدمت خلق میں لگا رہتا تھا۔ بہت اچھے کام کررہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مقتول شاہ زیب کی کزن نے خاندان کے مصائب بیان کردیے

بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے سٹی کے موٹروے کی 785کنال اراضی پر قبضے کا انکشاف

ان کا کہنا تھا میرے بیٹے کے قاتلوں کو ڈھونڈا جائے ، کسی نے کچھ نہیں کیا ، جو کچھ اس وقت کرا رہے ہیں پی ٹی آئی کے لوگ کروا رہے ہیں ، حکومت کی جانب سے کوئی پوچھنے تک نہیں آیا۔ کوئی ویڈیو یاں کوئی سی سی ٹی وی ویڈیو تو سامنے آنی چاہیے ، تاکہ ہمیں پتا چل سکے کہ ہمارے بیٹے کا قصور کیا تھا۔

مقتول طحہٰ شیخ کی والدہ کا کہنا تھا کہ جوان بچے مر رہے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کررہا ، ہم نے کیا اس لیے بچے پیدا کیے تھے کہ ان کو جوانی میں مار دیا جائے۔ اس کو گولیاں مار دی گئیں ، وہ اپنے ساتھ حفاظت کے لیے کبھی کچھ نہیں رکھتا تھا۔ اسے پتا تھا کہ میں صحیح ہوں ، میں کہیں بھی غلط نہیں ہوں۔

حکومت سندھ سے اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کم از کم سندھ حکومت آئے ، اور پتا کرے کہ کس نے میرے بیٹے کو مارا ہے۔ ہماری کسی سے دشمنی نہیں ہے ، جو کچھ بولا جارہا ہے وہ سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں ہے۔ یہ اپنے سر ٹوپی اتار رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر