ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں اربوں روپے مالیت کی زمینوں کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف
ملیرڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) کے ڈاریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے سیکرٹری بلدیات اور ڈاریکٹرجنرل ایم ڈی اے کو ریکارڈ کی عدم موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا جس پرتحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی جو 3 ماہ بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں کرسکی، جولائی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کا 3 ماہ کے دوران صرف ایک اجلاس ہوا

ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) میں اربوں روپے مالیت کی زمینوں کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈاریکٹر جنرل کو ریکارڈ کی غائب ہونے سے متعلق آگاہی فراہم کردی گئی ہے ۔
ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے ) میں اربوں روپے مالیت کی زمینوں کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایم ڈی اے کے ڈائریکٹرٹاؤن پلاننگ نے ریکاڑڈ کی عدم موجودگی کے بارے میں اعلیٰ افسران کو آگاہ کردیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
نئے سائیں نئی ٹیم نئے ریٹ: کراچی کی زمینوں کو ٹھکانے لگانے کے منصوبے پر عملدرآمد تیز
ملیرڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے )کے ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ نے زمینوں کے ریکارڈ کی عدم موجودگی کے بارے میں ڈاریکٹر جنرل اور سیکرٹری بلدیات آگاہ کردیا ہے ۔

ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کی جانب سے ریکارڈ کے غائب ہونے کی اطلاعات کے بعد چیف سیکرٹری سندھ نے تحقیقات کیلئے جولائی میں 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جوکہ ذمہ داروں کو تعین کرنے کی ذمہ دار تھی ۔
تشکیل کی گئی کمیٹی کو زمینوں کے ریکارڈ کے غائب ہونے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا تاہم تین ماہ گزرنے کے بعد بھی کمیٹی اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کرسکی۔

ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں ریکارڈ کی عدم موجودگی کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کا صرف ایک ہی اجلاس ہو پایا ہے ۔
ایم ڈی اے حکام کے مطابق ایک ہزار 700 ایکٹرسے زائد زمینوں کا این او سی رجسٹر اور ڈویلپمنٹ پرمٹ رجسٹر غائب ہے۔
حکام کے مطابق دیھہ ناگن، دیھہ کھاڑکوڑو، دیھہ کونکر، دیھہ تھانو، دیھہ اللّه پیائی اور دیھہ جوریجی کی زمینوں کی ٹاؤن پلاننگ ریکارڈ غائب ہے۔









