سکھر، حیدرآباد موٹر وے منصوبے میں کرپشن کا کُھرا سندھ کی با اثر ترین خاتون تک جاپہنچا
ڈی سی مٹیاری نے دوران تفتیش ایف آئی اے اور نیب حکام کے سامنے کرپشن کی واردات کوتفصیل سے بیان کردیا، ڈی سی نوشہروفیروز تاشفین عالم کو بیرون ملک فرار کرانے میں بھی بااثر خاتون نے اہم کردار اداکیا، نیب سکھر نے علیحدہ تحقیقات بھی شروع کردی

سکھر، حیدرآباد موٹر وے ایم 6 منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن کا کُھرا سندھ کی بااثر ترین خاتون تک جاپہنچا۔اربوں روپے کی کرپشن کے کیس میں گرفتار ڈی سی مٹیاری نے دوران تفتیش سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔
دوسری جانب نیب سکھر نے سکھر،حیدرآباد موٹروے منصوبے کی علیحدہ تحقیقات شروع کردی۔
یہ بھی پڑھیے
سکھر حیدر آباد موٹر وے منصوبے میں 2.1ارب روپے کی مبینہ کرپشن پر ڈی سی مٹیاری گرفتار
سکھر حیدرآباد موٹر وے کی تعمیر میں تاخیر، سندھ ہائی کورٹ کا اظہار برہمی
سندھ حکومت کے بااثر ترین ذرائع نے نیوز 360 کوبتایا ہے کہ ڈی سی مٹیاری نے دوران تفتیش ایف آئی اے اور نیب حکام کے سامنے کرپشن کی واردات کوتفصیل سے بیان کردیا۔ملزم نے تفتیشی حکام کو بتایا ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر منصوبے کیلیے آنے والے 2 ارب 14 کروڑ روپے کرنٹ اکاؤنٹ سے نکال کر اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کیےاور بعدازاں تمام رقم کیش کی صورت میں بینک سے نکال لی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز تاشفین عالم نے بھی منصوبے کیلیے آنے والے 3 ارب 61 کروڑ روپے کرنٹ اکاؤنٹ سے نکالنے کے بعد سندھ کی بااثر ترین خاتون تک پہنچائی ہے جبکہ تاشفین عالم کو بیرون ملک فرار کرانے میں بھی انہی بااثرخاتون نے اہم کردار اداکیا ہے۔
دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) سکھرنے معطل ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز تاشفین عالم کے خلاف علیحدہ انکوائری شروع کردی ہے ۔ سندھ حکومت کی متعدد ٹیمیں پہلے ہی اس اسکینڈل کی الگ الگ انکوائری کر رہی ہیں۔
روزنامہ ڈان کے مطابق نیب سکھر کی ٹیم نے جمعے کو نوشہروفیروز میں سندھ بینک کی متعلقہ برانچ کا دورہ کیا جو کہ شہید بینظیر آباد ڈویژن کا حصہ ہے۔شہید بینظیر آباد کے کمشنر رشید زرداری نے تصدیق کی کہ نیب حکام نے ان سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ نیب کا اپنا طریقہ کار ہے اس لیے میں اس معاملے کی انکوائری کی کارروائی سے آگاہ نہیں ہوں ۔
ٹیم نے تقریباً 850 چھوٹے کاشتکاروں کو ’لینڈ ایکوزیشن ایوارڈ‘ کے تحت ادائیگیوں سے متعلق ریکارڈ حاصل کیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق کاشتکاروں کو اراضی کے حصول کے ایوارڈ کے لیے ان کو قابل ادائیگی رقم کا 50 فیصد دیا گیا تھا۔ کاشتکاروں نے بینک سے رقم کیش میں نکالی۔
نیب ٹیم کے پہنچنے پر برانچ کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ نیب حکام نے سندھ حکومت کی تحقیقاتی ٹیم سے بھی کمیٹی روم میں ملاقات کی۔ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز تاشفین عالم نے مبینہ طور پر دبئی کے راستے 19 نومبر کو آذربائیجان کا سفر کیابعدازاں”لاپتہ“ہونے کے بعد انہیں 23 نومبر کو معطل کر دیا گیا۔
لینڈ ایکوزیشن ایوارڈ کے تحت ادائیگیاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ذریعے کی گئی تھیں، جس کے لیے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1849 کے تحت کارروائی لازمی طور پر کی جانی تھی۔
نوشہرو فیروز میں سندھ حکومت کی ٹیم کی سربراہی ایک تجربہ کار ریونیو افسر سجاد حیدر کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ٹیم اور ایف آئی اے نے کاشتکاروں اور ریونیو حکام (مجموعی طور پر 60افراد) کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ جن ریونیو ٹیموں نے زمین کا سروے کیا تھا ان سے متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے اعتراف کیا ہے کہ نیب کی ٹیم نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ہماری ٹیمیں نوشہرو فیروز اور مٹیاری اضلاع میں الگ الگ کام کر رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ضلع نوشہرو فیروز میں زمینداروں کو ان کی زمینیں حاصل کرنے کے لیے تقریباً 3.61 ارب روپے دیے گئے تھے۔
سندھ حکومت کی ٹیمیں پہلے ہی دونوں اضلاع میں زمینوں کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے کہا”ہماری ٹیم سندھ بینک سے ریکارڈ اکٹھا کر رہی ہے اور دیگرتفصیلات کے ساتھ اس کی تصدیق کر رہی ہے “۔
مٹیاری میں اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی کی ہدایات کے تحت سندھ بینک کی سعید آباد برانچ سے 438 چیکوں کے ذریعے 2.14 ارب روپے نقد نکالے گئے حالانکہ ایوارڈ کی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (ایل اے اے) 1894 کے سیکشن 11 کے تحت منظور نہیں کی گئی تھی،
ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق سندھ بینک بھی اپنی انتظامیہ کی شکایت پر ایف آئی اے سے انکوائری شروع کروانا چاہتا تھا لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ ایف آئی اے اہلکار نے کہا کہ”بینک یہ بھی چاہتا ہے کہ ایف آئی اے اس کے لیے تحقیقات شروع کرے کیونکہ یہ ایل اے اے کے تحت ایک مختلف قسم کا فراڈ ہے ورنہ عام طور پر زمین کے حصول کے معاملے میں بینکوں، فریقین اور ریونیو حکام کو شامل کرنے کے مختلف طریقوں سے غبن کیا جاتا ہے۔
این ایچ اے نےڈپٹی کمشنر مٹیاری کے اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 4.092 ارب روپے منتقل کیے تھے اور اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر سعید آباد نے 2.14 ارب روپے کیش میں نکالے تھے۔ بینک برانچ میں 1.94 ارب روپے کی رقم باقی ہے۔ سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر سعید مگنیجو کی سربراہی میں سندھ حکومت کی ایک اور ٹیم نے سندھ بینک کی انتظامیہ سے کہا تھا کہ وہ مزید لین دین سے بچنے کے لیے اکاؤنٹ منجمد کر دیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری شاہمیر خان بھٹو کی سربراہی میں سندھ حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو مٹیاری میں زمین کے مالکان کی صرف 8نامکمل فائلیں فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر کو معطل کردیا گیااور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔
بینک الحبیب سے 1.385 ارب روپے کی رقم اس وقت کے ڈی سی مٹیاری کے زیر انتظام سندھ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی اور اس کے بعد این ایچ اے سے موصول ہونے والی 2.70 ارب روپے کی رقم بھی ڈی سی کے سندھ بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی۔ادھر مٹیاری کے سابق ڈی سی عدنان رشید کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں جمعرات کی شب میڈیکل چیک اپ کے لیے سول اسپتال حیدرآباد لایا گیا تھا۔









