الیکشن کمیشن سے فریال تالپور کے خلاف پی ٹی آئی کی نااہلی کی درخواست مسترد

ای سی پی نے پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے ان کی نااہلی دائر درخواست کو مسترد کردیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ایم پی اے فریال تالپور کے خلاف دائر نااہلی کی درخواست مسترد کردی۔

ای سی پی (سندھ) نے 27 اکتوبر کو رہنما پیپلز پارٹی کی بطور رکن سندھ اسمبلی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

درخواست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں ارسلان تاج اور رابعہ عزفرین کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ فریال تالپور کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نااہل قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ ای سی پی کے سامنے اپنے اثاثوں کی تفصیلات بتانے میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ اب صادق اور امین نہیں رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

20 دسمبر کو جلسے میں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیں گے، عمران خان

نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے ضمانت طلبی، چوہدری شجاعت لندن جائیں گے

پی ٹی آئی کی جانب  سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فریال تالپور کی لاڑکانہ اور شہداد کوٹ میں جائیدادیں ہیں جو انہوں نے اثاثوں کی تفصیلات میں ظاہر نہیں کیں، جبکہ وہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کیسز میں بھی نامزد ہیں۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔ گزشتہ سماعت پر سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ کے خلاف سماعت میں فریقین کے وکلا ای سی پی میں پیش ہوئے تھے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ محترمہ فریال تالپور نے اپنے اثاثوں کی تمام تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کرائی تھی بلکہ بعض حقائق بھی چھپائے تھے ۔

اس موقع پر فریال تالپور کے وکیل نے ای سی پی پینل کے سامنے پوائنٹ اٹھایا کہ ‘یہ نان ڈیکلریشن کا معاملہ نہیں ہے، میرے موکل کے تمام اثاثے الیکشن کمیشن میں ظاہر ہیں۔

الیکشن کمیشن کے پینل نے تالپور کے وکیل سے کہا کہ اپنا ریکارڈ دکھائیں جس سے کیس ختم ہو جائے گا۔

وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مدعا علیہ (فریال تالپور) نے اپنے تمام اثاثے ای سی پی میں ظاہر کیے ہیں اور نااہلی کے لیے مواد اور ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم استغاثہ نااہلی کےلیے کافی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ اس لیے فریال تالپور کی نااہلی کے لیے دائر درخواست ناکافی ثبوتوں کی بنا پر مسترد کی جاتی ہے۔ اور انہیں الیکشن کے لیے اہل قرار دیا جاتا ہے۔

متعلقہ تحاریر