گورنر سندھ کامران ٹیسوری منقسم ایم کیو ایم کو متحد کرنے کے مشن پر گامزن

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کامران ٹیسوری اپنی کوششوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کل کا کراچی آج کے کراچی سے مختلف ہوگا۔

سندھ اور خصوصی طور پر کراچی کی سیاست میں ایک مرتبہ بھونچال کی سی کیفیت آگئی ہے، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں تیز سے تیزتر کردی ہیں، گذشتہ گورنر سندھ پی ایس پی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا دھڑوں کو متحد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ، جبکہ گذشتہ روز سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور کراچی کے سیاسی مسائل پر کھل کر بات چیت کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کامران ٹیسوری اپنی کوششوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو کل کا کراچی آج کے کراچی سے مختلف ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جمعرات کی رات گئے مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت پاک سرزمین پارٹی (PSP) کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف کا مہنگائی کے خلاف جمعے سے ملک گیر احتجاج کا اعلان

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور کارکنان نے گورنر سندھ کا شاندار انداز میں استقبال کیا۔ پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی، اشفاق منگی اور نیک محمد نے کامران ٹیسوری کا استقبال کیا۔کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، ایم کیو ایم کے دھڑوں کے اتحاد اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ سیاسی جدوجہد کے لیے پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال اتوار کے روز اپنی پارٹی کو ایم کیو ایم میں ضم کرنے کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔

گورنر سندھ اور مصطفیٰ کمال کی میڈیا ٹاک

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ٹوٹی سڑکیں ، گندی گلیاں ، ابلتے گٹر ، ہمیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے ، کوئی مسیحا نہیں آئے گا ہمیں خود ہی آگے بڑھنا ہو گا ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ختم کرنا ہو گی ، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کراچی کے لیے کام کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کوئی ایک جماعت ملک کے مسائل نہیں کرسکتی ، قومی مفاد کے لیے اپنی ذاتی سیاست کو پیچھے رکھنا ہوگا ، پاکستان کو مسائل سے صرف کراچی ہی نکال سکتا ہے ، ایم کیو ایم سے براہ راست یا خفیہ کو بات نہیں کی۔

یاد رہےکہ رواں ہفتے میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے فرداً فرداً ملاقاتیں کی تھیں اور متحدہ کے دھڑوں کو متحد کرنے پر زور دیا تھا۔

‘وقت کی ضرورت’

واضح رہے کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے تمام دھڑوں کا اتحاد کراچی کے استحکام کے لیے بہت ضروری ہے ، اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی رہنماؤں کو متحد کرنے میں انہوں نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ متحدہ کی سیاست اور کراچی کے استحکام کے لیے ایم کیو ایم کے دھڑوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں کامیابی اس وقت ملے گی جب ہم انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی مفادات کے لیے فیصلے کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پارٹی کی قیادت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کی۔”

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کی قیادت بھی سمجھ چکی ہے کہ انضمام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کے اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے ایک وفد نے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں گزشتہ روز گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ملاقات کی تھی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ایم کیو ایم پاکستان کے دھڑوں کا اکٹھا کرنے کی کوششیں اپنی جگہ پر درست ہیں مگر یہ سب کوششیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاست قوت کو ختم یا کم کرنے کےلیے ہورہی ہیں۔ کیونکہ سندھ اور خصوصی طور پر کراچی میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ، جو نہ تو پیپلز پارٹی کے روکنے سے رک ہے اور نہ منقسم ایم کیو ایم اُنہیں روک پارہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کے ووٹ تقسیم ہو گئے جس کا پورا پورا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا اور کلوز مارجن سے کامیابیاں سمیٹیں۔ اس لیے اگر ایم کیو ایم پاکستان کو اپنی ساکھ دوبارہ عوام میں بحال کرنی ہے تو اسے ہر صورت میں متحد ہونا پڑے گا، ورنہ پی ٹی آئی تو موجود ہی ہے۔

متعلقہ تحاریر