قاضی احمد میں یوریا کھاد مہنگے داموں بکنے لگی، انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی

کسانوں کا کہنا ہے کہ یوریا کھاد کے سرکاری نرخ 2250 روپے ہیں جبکہ انہیں بلیک میں یوریا کھاد کی بوری 3000 روپے میں خریدنی پڑرہی ہے۔

سندھ بھر کی طرح قاضی احمد میں بھی ذخیرہ اندوزوں نے یوریا کھاد بلیک میں فروخت شروع کردی ، کسانوں میں بے چینی پھیل گئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بھر کی طرح تحصیل قاضی احمد تحصیل میں بھی ذخیرہ اندوزوں نے یوریا کھاد کی مصنوعی قلت پیدا کر کے بلیک پر کھاد کی فروخت شروع کردی ہے۔ جبکہ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سکھر میں گیس ناپید ہونے پر شہری کوئلے اور لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور

سکھر بیراج اور اس سے نکلنے والی ساتوں نہروں کی سالانہ صفائی کے کام آغاز

تحصیل بھر میں کھاد کی بلیک میں سیل جاری ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر شہید بینظیر آباد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔

گندم اور سرسوں کی فصلوں کے لیے یوریا کھاد کی خریداری کے لیے کسان در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یوریا کھاد کا سرکاری ریٹ 2250 روپے ہے لیکن ڈیلروں اپنی من مانی چلا رکھی ھے۔

سرکاری ریٹ کی بجائے یوریا کھاد کی فی بوری 3000 روپے میں فروخت کر رہے ہیں جس کے باعث کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی گندم اور سرسوں کی فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کسانوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بلیک پر یوریا کھاد کی فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور یوریا کھاد کی سرکاری ریٹ پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ تحاریر